Brailvi Books

غیبت کی تباہ کاریاں
342 - 504
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)مجھ پر دُرُود پاک کی کثرت کروبے شک یہ تمہارے لئے طہارت ہے ۔
حضرتِ سیِّدُنا شیخ نصیرُالدّین محمودبن یوسُف رشید اَودھی علیہ رَحمَۃُ اللہِ القویکے آستانہ عالیہ(دہلی)میں داخل ہو کر چُھری سے 15یا17وار کر کے آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو شدید زخمی کر دیا ۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے کمالِ صبر کامظاہرہ کرتے ہوئے حملہ آور سے فرمایا: فوراً اندر والے کمرے میں چُھپ جاؤ ورنہ لوگ پہنچ گئے توشاید تمہیں زندہ نہیں چھوڑیں گے ، وہ چُھپ گیا ۔ لوگوں نے بَہُت تلاشا مگر حملہ آور کاسُراغ نہ ملا ، آدھی رات کے وقت موقع پا کر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے حملہ آورکو وہاں سے رخصت کر دیا۔
 (سبع سَنا بِل ص ۶۴مُلَخَّصاً )
اللہ عَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری مغفِرت ہو۔
اٰمِین بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمین صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
   سبحٰنَ اللہ اولیاء ُاللہ کی بھی کیسی بُلند شانیں ہوتی ہیں!وہ اپنی برائیاں کرنے والوں بلکہ جان کے در پے رہنے والوں کے ساتھ بھی حسنِ سلوک کیا کرتے ہیں، کسی نے سچ ہی تو کہا ہے  ؎
بدی را بدی سَہل باشَد جَزا

اگر مَردی اَحسِن اِلیٰ مَن اَسا
(یعنی بدی کا بدلہ بدی سے دینا تو آسان ہے اگر تو مر د ہے تو برائی کرنے والے کے ساتھ بھی بھلائی کر)
صَلُّوا    عَلَی الْحَبِیب !               صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(30)دوگُدڑیوں والا
     دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ 413 صَفحات پر مشتمل کتاب ، ''عُیُونُ الحکایات''حصّہ دُوُم صَفْحَہ18پر ہے :حضرتِ سیِّدُنا ابراہیم آجُرِی کبیر علیہ رحمۃ اللہ القدیر فرماتے ہیں:سردیوں کے دن تھے میں مسجِد کے دروازے پر بیٹھاہوا تھاکہ قریب سے ایک شخص گزرا جس نے دو گُدڑیاں اوڑھ رکھی تھیں۔ میرے دل میں بات آئی کہ شاید یہ بھکاری ہے ،کیا ہی اچّھا ہوتا کہ یہ اپنے ہاتھ سے کما کرکھاتا ۔ جب میں سویا تو خواب میں دو فرشتے آئے
Flag Counter