حضرتِ سیِّدُنا سلطانُ المشائخ خواجہ محبوبِ الہٰی نظامُ الدّین اَولیاء رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی ایک آدَمی خوب غیبتیں کرتا اورآپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ پرطرح طرح کی تہمتیں باندھتا پھرتا تھا۔ اِس کے باوُجُودآپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اُس کے گھر خرچ کیلئے روزانہ کچھ نہ کچھ بھجوا دیا کرتے تھے ، طویل مدّت تک یہ سلسلہ چلتا رہا۔ ایک دن اُس کی زوجہ نے غیرت دلاتے ہوئے کہا:دستو ر تو یہ ہے کہ جس کا کھانا اُس کا گانا،مگریہ کہاں کا انصاف ہے کہ جس کا کھانا اُسی پر غُرّانا!آپ بھی عجیب شخص ہیں کہ ایک ایسے بُزُرگ کے پیچھے لگے ہوئے ہیں جو بِغیرسُوال آپ کے بچّوں کوپال رہا ہے!بیوی کی باتیں سُن کر اُس کو ندامت ہوئی، غیبتوں اور تہمتوں سے باز آ گیا ۔ اُسی روز سے حضرتِ سیِّدُناخواجہ نظامُ الدّین اولیاء رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے بھی اَخراجات بھجوانے بند کر دیئے۔ وہ حاضرِ دربار ہو کر عرض گزار ہوا:سرکار !اس میں کیا حکمت ہے کہ جب تک آپ کے بارے میں خُرافات بکتارہا مجھ پر انعامات وا کرامات کی برسات رہی مگر جوں ہی مُزَخْرَفات(یعنی واہیات بکواسات)سے باز آیا عنایات و نوازِشات بند ہو گئیں ! ارشاد فرمایا: جب تک تم میری آبروریزی کرتے رہے مجھے تمہاری طرف سے نیکیاں ملتی رہیں اورخطائیں مٹتی رہیں، اُن دنوں تم گویا میرے اَجیر یعنی مزدور تھے لہٰذا میں تمہیں نیکیاں بھیجنے اور گناہ مَیٹنے کی اُجرت (مزدوری) پیش کرتارہا ،اب جبکہ تم نے یہ کام تَرک کر دیا ہے توپھر میں اُجرت کس بات کی دوں!