| غیبت کی تباہ کاریاں |
فرمانِ مصطَفےٰ:(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)جس نے مجھ پر سو مرتبہ دُرُود پاک پڑھا اللہ تعالیٰ اُس پر سو رحمتیں نازل فرماتا ہے ۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(27)''وہ مُردے کی طرح سویا ہے''کہنا
حضرتِ سیِّدناشیخ سعدی علیہ رحمۃ اللہ الھادی فرماتے ہیں:میں بَہُت چھوٹی ہی عمرسے راتوں کو جاگ کر عبادت کیا کرتا تھا۔ ایک بار والدِ محترم کے ساتھ ساری رات عبادت میں گزار ی اور تلاوتِ قراٰن کرتا رہا۔چند افراد ہمارے قریب مزے سے سورہے تھے۔ میں نے والدِ محترم سے کہا:اِن میں سے کوئی ایک بھی ایسا نہیں جو اُٹھ کر(تہجُّد کے)دونَفل ہی پڑھ لے ، یہ تو مُردوں کی طرح سوئے پڑے ہیں!والدِگرامی نے فرمایا:بیٹا!تم عبادت کرنے کے بجائے ساری رات سوئے رہتے یہی بہتر تھاکیوں کہ تم بیدار رہ کرغیبت کی آفت میں گرفتار ہوگئے۔
(تفسیر رُوحُ الْبیان ج۹ ص۸۹ )
''غیبت کرنا گناہ ہے ''کے چودہ حُرُوف کی نسبت سے نَفلی کاموں کے مُتَعَلِّق غیبت کی 14مثالیں
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اِس حکایت سے معلوم ہوا کہ تہجُّد وغیرہ نفلی عبادات سے غافل ہو کر ساری رات سویا رہنا اُس کے حق میں بہتر ہے جوکہ رات بھر عبادت تو کرے مگر غیبت کی آفت میں بھی جا پڑے۔ تہجُّد ونوافِل ادا کرنابے شک کارِ ثواب ہے مگر غیبت کرنے والا حقدارِ عذاب ہے۔ اِس حِکایت میں اُن لوگوں کیلئے عبرت کے کثیر مَدَنی پھول ہیں جو بِلا حاجتِ شرعی اِس طرح سے غیبتیں کرتے ہیں مَثَلاً *فُلاں اِشراق چاشت نہیں پڑھتا * اُس کو بَہُت جگایا مگر فجر(یا تہجُّد)کیلئے نہیں اُٹھا،بس *مُردے کی طرح سویاپڑا رہا* باجماعت نَماز کی پابندی نہیں کرتاخ پیر شریف کا روزہ نہیں رکھتا * جب بھی اجتماع کی دعوت دیتا ہوں''آنٹی مار دیتا ہے''* مَدَنی اِنعامات پر عمل کرنے میں سُست ہے * اجتماع میں دیر سے آتایا * باہَر بستوں پر گھومتا *یا ہوٹل میں بیٹھا یا *دوستوں کے ساتھ باتیں کرتا رہتا ہے * مَدَنی مشورے میں ہمیشہ تاخیر سے آتا ہے* کبھی مدنی قافلے میں سفر نہیں کرتا اور* سمجھاؤ تو جھوٹے بہانے کر دیتا ہے۔