ایک اور روایت بھی مُلاحَظہ ہو چُنانچِہ !حضرت سیِّدنا ابوہُرَیرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ خاتَمُ الْمُرْسَلین، رَحْمَۃٌ لّلْعٰلمین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلَّم کا فرمانِ دلنشین ہے:جس نے کسی نابینا کو ایک مِیل تک چلایا تو اسے مِیل کے ہر ذِراع (یعنی گز)کے بدلے ایک غلام آزاد کرنے کا ثواب ملے گا۔جب تم نابینا کو چلاؤ تو اس کا اُلٹا ہاتھ اپنے سیدھے ہاتھ سے تھام لو کہ یہ بھی صدقہ ہے ۔
(اَلْفِردَوس بمأثور الْخطّاب ج۵ص۳۵۰ حدیث۸۳۹۷)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!خدائے رحمٰن عَزَّوَجَلَّ کی رحمتوں پر قربان کہ اُس نے ہمارے لئے ثواب کمانا کس قَدَر آسان رکھا ہے ۔غلام آزاد کرنے پر کیا ثواب ملتا ہے اس بارے میں بکثرت رِوایات ہیں،اللہ عَزَّوَجَلَّ چاہے تو اپنے فضل و کرم سے نابینا کا ہاتھ پکڑ کر چلانے پروہ سب ثواب عطا فرمادے۔ ترغیب کیلئے ایک حدیثِ مبارَک بیان کی جاتی ہے چُنانچِہ سلطانِ دوجہان، مدینے کے سلطان، رحمتِ عالمیان ، سرورِ ذیشان صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمان مغفِرت نشان ہے:جو شخص مسلمان غلام کو آزاد کریگا اِس (غلام)کے ہر عُضو کے بدلے میں اللہ عَزَّوَجَلَّ اُس (آزاد کرنے والے)کے ہر عُضو کو جہنَّم سے آزاد فرما ئے گا ۔ سَعید بن مَرجانہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:میں نے جب سیِّدُنا زَینُ العابِدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمتِ عالی میں یہ حدیثِ پاک سُنائی تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنا ایک ایسا غُلام آزاد کر دیا جس کی حضرت سیِّدُنا