ایک دانا (عقلمند)کے سامنے کسی شناسا نے ایک مسلمان کی غیبت کی، اُس دانا نے کہا:اے شخص !پہلے میرا دل فارِغ تھا ، اب تُو نے غیبت کے ذَرِیعے میرا دل اُس مسلمان کے عیبوں کے متَعَلِّق وسوسوں اور نفرتوں میں مشغول کر دیا اور اس مسلمان کو میری نظر میں حقیر بنانے کی سعی کی اور اس طرح سے تو بھی میرے نزدیک'' گندا''ہوا ، کیونکہ میں سمجھتا تھا کہ تو امین(یعنی امانت دار)ہے اوربات کو خوب چُھپاتا ہے، اب جب کہ تُو نے اُس کا عیب کھولا تو معلوم ہو گیا کہ تُو امین نہیں ہے تیرے دل میں کوئی بات رُکتی نہیں۔
(ماخوذ از تَنبِیہُ الغافِلین ص۹۲)
(25)ماضی کی یاد---- دو نابینا
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!واقعی غیبت کرنے والا خود ہی گندا بنتا اور ذلیل ہوتا ہے۔ لوگ غیبت کے عادیوں سے کتراتے، گِھن کھاتے اور خود کو بچاتے ہیں۔ اپنے لڑکپن کی دھندلی یادوں میں سے دونابیناؤں کا تذکرہ کرتا ہوں۔ ایک نابینا مکمَّل داڑھی والا ،قراٰنِ پاک کا بہت پکاحافِظ اور مذہبی وَضع قَطع کا شخص تھامگر باتیں اورغیبتیں بَہُت زیادہ کیا کرتا تھا ، کسی کو نہیں چھوڑتا تھا،میں(یعنی سگِ مدینہ عفی عنہ)اُس سے کتراتا تھا ۔ دوسرا نابینا داڑھی مُنڈا یا خشخشی داڑھی والاعام سا آدمی تھا،اس کی خوبی یہ تھی کہ ایک دم خاموش طبیعت تھا اُس کا نام تک مجھے معلوم نہیں، کبھی بھی اُس کے منہ سے میں نے کسی کی غیبت نہیں سنی ، مجھے نَماز کے بعد بارہا لاٹھی پکڑ کر اسے اس کے گھر تک لے جانے کا موقع ملا ہے۔ لگے ہاتھوں نابینا کو چلانے کی فضیلت بھی مُلاحَظہ کیجئے۔