میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ہمارے بُزُرگوں کاخوفِ خدا عَزَّوَجَلَّ بھی مرحبا ! کسی گناہ سے لاکھ توبہ کریں مگر خوف خَتْم نہیں ہوتا ، ندامت نہیں جاتی، ایک ہم ہیں کہ گناہ کرنے کے بعد ہنستے ہنستے اپنے گالوں پر باری باری ہاتھ لگا کر دل کو منا لیتے ہیں کہ ہم گناہوں سے صاف ستھرے ہو چکے اور پھر اس گناہ کو اپنے پردہ خیال سے حَرفِ غَلَط کی طر ح مٹا دیتے اور اپنی مستیوں میں بد مست ہو جاتے ہیں!آہ!قِیامت کاحساب!خدا کی قسم!بالخصوص حُقُوقُ العباد کامُعاملہ انتہائی تشویش ناک ہے جیسا کہ حضرتِ سیِّدُنا حسن بصریعلیہ رَحمَۃُ اللہِ القوی فرماتے ہیں:قِیامت میں اپنا حق وُصول کرنے کیلئے ایک شخص دوسرے کا ہاتھ پکڑلیگا وہ دوسرا شخص کہے گا :میں تجھے نہیں پہچانتا ،تو کون ہے؟ پہلا شخص کہے گا:تُو نے میری دیوار سے ایک اینٹ نکالی تھی اور تُو نے میرے کپڑے سے دھاگا نکالا تھا ۔(اس سبب سے میں تجھ پر اپنے حق کی وصولی کیلئے دعویٰ کرتا ہوں)
(اِحیاءُ الْعُلوم ج۵ ص۹۹)
اِسی لئے ہمارے بُزُرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللہُ المبین لوگوں کے بظاہر انتہائی معمولی نظر آنے والے حُقُوق سے بھی بَہُت ڈرتے تھے۔ حضرتِ سیِّدُنا کَھْمَس رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:میں ایک گناہ کی نَدامت کے سبب چالیس برس سے رو رہا ہوں۔ کسی نے پوچھا:یا سیِّدی !وہ کون سا گناہ ہے؟ فرمایا:ایک مرتبہ مہمان کے لئے مچھلی لی تھی پھراُس کے کھانے کے بعد ہاتھ دھونے کیلئے میں نے اپنے پڑوسی کی دیوار سے بِلا اجازت مِٹّی کا ٹکڑا لے لیا تھا۔