میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! فی زمانہ مُتَّقِی و پرہیز گارہونے کا دارومدار ظاہِری نفلی عبادتوں مَثَلاً نفلی نَمازوں اور نفلی روزوں پرہی رَہ گیا ہے، جو شخص بکثرت نوافِل پڑھتا یابَہُت نفلی روزے رکھتاہے یا اکثر تسبیح ہاتھ میں رکھتا اور خوب ذکرو اذکار کرتا اورگڑ گڑا کر دُعائیں کیا کرتا ہے یا صدقہ خیرات بَہُت کرتا ہے ، اُسی کو لوگ مُتَّقِی اور پرہیز گار کہا کرتے ہیں، اگر چِہ ان عبادتوں کے ساتھ ساتھ دن بھرلوگوں کی غیبتیں کرتاپھرتا ہو، بِلا وجہ مسلمانوں کو جھاڑتا اور ان کے دل دُکھاتا ہو تب بھی اُس کے تقوے کو آنچ نہیں آتی!اگر کوئی آدمی ظاہِر میں نفلی عباد ت کم کرتا ہو مگر غیبت وغیرہ گناہوں سے بچتا ہو اُس کو فی زمانہ مُتَّقِی نہیں کہا جاتا۔ اِس کی وجہ کہیں یہ تو نہیں کہ لوگوں کی نظر میں غیبت کرنے نہ کرنے کی کچھ اَھَمِّیَّت ہی نہیں ۔ یاد رکھئے!جو فرائض،واجِبات اورمؤکدہ سنّتوں کی پابندیوں کے ساتھ ساتھ غیبتوں وغیرہ گناہوں سے بھی بچتا ہو۔ وہ بَہُت بڑامُتَّقِی ہے۔باقی چاہے کوئی سارا ہی سال نفلی روزے رکھے ، ساری ساری رات نفلی عبادات بجالائے ، ہر سال حج کو جائے،ہربرس رَمَضانُ الْمبارَک میں عُمرے کی سعادت پائے ، داڑھی رکھائے،زلفیں بڑھائے، عمامہ شریف سجائے بظاہر کیسا ہی نیک صورت ہو مگر غیبتیں کرتا ہو، مسلمانوں کے عیب کھولتا ان کے دل دُکھاتا ہو وہ مُتَّقِی و پرہیز گار توخاک ہو گا،''نیک بندہ'' بھی نہیں، فاسِق و گنہگار اور عذابِ نار کا حقدار ہے ۔