غیبت کرنے سننے کی عادت نکالنے،نمازوں اور سنّتوں پر عمل کی عادت ڈالنے کیلئے دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے ہر دم وابَستہ رہے، سنّتوں کی تربیت کیلئے مَدَنی قافِلوں میں عاشقانِ رسول کے ساتھ سنّتوں بھرا سفر کیجئے،کامیاب زندگی گزارنے اور آخِرت سنوارنے کیلئے مَدَنی انعامات کے مطابِق عمل کرتے ہوئے روزانہ فکرِ مدینہ کے ذریعے رسالہ پُر کیجئے اور ہر مَدَنی ماہ کی 10 تاریخ کے اندر اندر اپنے ذمّے دار کو جمع کروایئے۔آپ کی ترغیب وتحریص کیلئے ایک مدنی بہار گوش گزار کرتا ہوں چُنانچِہ ایک اسلامی بھائی کے بیان کا لُبِّ لُباب ہے کہ صوبہ پنجاب کے ضِلع بہاول پور کی تحصیل ٹَیْل والامیں ایک صاحِب (عمر تقریباً 37سال )کا مِنی سینما گھرتھا ،وہ روزانہ کئی شَوچلاتے جس میں سینکڑوں افراد فلمیں دیکھتے اور اپنی آنکھوں میں جہنَّم کی آگ بھرنے کا سامان کیا کرتے ۔علاوہ ازیں وہ کرائے پر فلموں کی وی ۔سی۔ ڈیز بھی دیا کرتے ۔ایک مبلِّغ دعوتِ اسلامی نے اِنفِرادی کوشِش کرتے ہوئے انہیں مدنی چینل چلانے کی ترغیب دی، خوش قسمتی سے اُن صاحِب نے کبھی کبھار مَدَنی چینل چلانا شروع کیا ، جسے وہ خود بھی دیکھا کرتے ۔چند ہفتوں کے بعد یعنی 9 شعبانُ العظم ۱۴۳۰ھ کو ''یَزمان''شہر میں ہونے والےــ''اجتماعِ ذکرونعت ''میں سینکڑوں اسلامی بھائیوں کے سامنے اُنہوں نے بتایا کہ مَدَنی چینل کی برکت سے میرے اندر خوفِ خدا عَزَّوَجَلَّ پیدا ہوا ہے میں نے گناہوں سے توبہ کر لی ہے اوراپنامِنی سینما بند کردیا ہے،نیز انہوں نے نمازوں کی پابندی کرنے،داڑھی شریف سجانے اور رَمَضانُ الْمبارَک میں دعوتِ اسلامی کے10دن کے اجتماعی اعتکاف میں بیٹھنے کی اچّھی اچّھی نیّتیں کیں ۔ قادِریہ رضویہ سلسلے میں بیعت ہوکر حضور ِغوث اعظم علیہ رحمۃ اللہ الاکرم کے مُرید بن گئے۔ اُنہوں نے فلموں وغیرہ کی تقریباً