''بوستانِ سعدی ''کی حکایت سے یہ بھی سیکھنے کو ملا کہ ''فُلاں مجھ سے حسد کرتا ہے''کہنا غیبت ہے، بلکہ یہ جملہ غیبت سے بھی سخت گناہ تہمت کی طرف جا رہا ہے کیوں کہ ''حسد ''باطنی امراض میں سے ہے اور اس کا تعلُّق دل سے ہے اگر چِہ کبھی کبھارواضح قَرائن(یعنی بالکل صاف علامتوں)سے بھی حسد کا اظہار ہو جاتا ہے مگر اکثر لوگ قِیاس ہی سے کسی کو حاسد کہہ دیا کرتے ہیں ۔ حسد کے مُتَعَلِّق غیبت کے مزید سات فِقرات مُلاحَظہ ہوں :* جل کُکَّڑ ہے * مجھ سے جلتا ہے * میری ترقّی دیکھ نہیں سکتا *میری خوشی سے خوش نہیں ہوا *میرا نقصان چاہتا ہے* میری بھلائی میں راضی نہیں * مجھے دیکھ کر اُس کے تن بدن میں آگ لگ گئی ۔
بہرِ شاہِ کربلا میرا گناہوں کا مَرَض دور کر دیجے خدارا اے طبیبِ ذی وقار
فکرِ نزعِ روح و قبر و حشر سے بچ جاتا گر کاش! ہوتا آپ کی گلیوں کا میں گَردو غبار
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
تُوبُوا اِلَی اللہ! اَسْتَغْفِرُاللہ
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد