Brailvi Books

غیبت کی تباہ کاریاں
330 - 504
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)جو مجھ پر روزِ جمعہ دُرُود شریف پڑھے گا میں قِیامت کے دن اُس کی شفاعت کروں گا۔
کا مُطالَعَہ فر ما لیجئے۔
نفسِ  بے لگام تو  گُناہوں  پہ اُکساتا ہے 

توبہ توبہ کرنے کی بھی عادت ہونی چاہے
صَلُّوا  عَلَی الْحَبِیب !             صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
 (20) شیخ سعدی کے استاذ نے کیا خوب ٹوکا
    حضرتِ سیِّدُنا شیخ سعدی علیہ رَحمَۃُ اللہِ الھادی فرماتے ہیں:میں نے ایک بار اپنے استادِ محترم حضرتِ علامہ اَبُو الْفَرَج عَبْدُ الرَّحمٰن بِن جَوزِی علیہ رَحمَۃُ اللہِ القوی سے عرض کی:میں لوگوں میں درسِ حدیث پیش کرتا ہوں تو فُلاں شخص حسد کرتا اور جلتا ہے!استادِ محترم نے فرمایا:اے سعدی !تَعَجُّب ہے کہ تم حسد کو توبُری چیز تسلیم کرتے ہو مگر میرے سامنے کسی کو ''حاسد''کہہ کر اُس کی بلا تکلُّف غیبت کر رہے ہو !آخِر تمہیں یہ کس نے کہہ دیا کہ صرف حسد ہی حرام ہے کیا غیبت حرام نہیں؟ یاد رکھو!اگر حاسد جہنَّم کا حقدار ہے تو غیبت کرنے والا بھی عذابِ نار کا سزا وار ہے۔
                        (بوستانِ سعدی ص۱۸۸ مُلَخَّصاً )
غیبت سے روکنا کب واجب ہے
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!سُبحٰنَ اللہ!اَساتِذہ ہوں تو ایسے!صرف مخصوص اسباق پڑھانے ہی سے غرض نہ ہو ،بلکہ طَلَبہ کی اَخلاقی تربیّت کابھی دھیان رکھیں ،ایک استاذ ہی کیا ہر مسلمان اپنی اس ذِمّے داری کو سمجھے اور نیکی کی دعوت اور گناہ سے مُمانَعَت کی ترکیب وصورت بناتا رہے۔ یہ مسئلہ (مَس۔ءَ۔لَہ)ذِہن میں رکھئے کہ جب کوئی شخص گناہ مَثَلاً غیبت کر رہا ہو اُس وَقت موجود شخص کا ظنِّ غالب ہو کہ میں منع کروں گا تو یہ باز آ جائے گا تو اُس کیلئے واجب ہے کہ اُس کو غیبت سے روکے، اگر نہیں روکے گا تو گنہگار ہوگا۔دعوتِ اسلامی کے اشاعتی اداریمکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ 312 صَفحات پر مشتمل
Flag Counter