عطّاریہ''حصّہ دُوُم صَفْحَہ 123 تا127پر ہے:حضرتِ سیِّدُناعبد اﷲبن احمد مُؤَذِّن رحمۃ اﷲتعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: میں طوافِ کعبہ میں مشغول تھا کہ ایک شخص پر نظر پڑی جو غِلاف ِکعبہ سے لِپٹ کر ایک ہی دُعا کی تکرار کررہا تھا:''یااللہ عَزَّوَجَلَّ مجھے دنیا سے مسلمان ہی رُخصت کرنا۔''میں نے اُس سے پوچھا :اِس کے علاوہ کوئی اور دُعا کیوں نہیں مانگتے ؟ اُس نے کہا:میرے دوبھائی تھے،بڑا بھائی چالیس سال تک مسجِدمیں بلا مُعاوَضہ اذان دیتا رہا۔جب اُس کی موت کا وقت آیا تو اُس نے قراٰنِ پاک مانگا، ہم نے اُسے دیا تاکہ اس سے بَرَکتیں حاصِل کرے، مگر قراٰن شریف ہاتھ میں لے کر وہ کہنے لگا:''تم سب گواہ ہوجاؤکہ میں قراٰن کے تمام اِعتِقادات واَحکامات سے بیزاری ظاہِر کرتا اورنَصرانی (کرسچین )مذہب اختیار کرتا ہوں۔ ''پھر وہ مرگیا۔اس کے بعد دوسرے بھائی نے تیس برس تک مسجِد میں فی سبیلِ اللہ عَزَّوَجَلَّ اذان دی۔ مگراُس نے بھی آخِری وَقت نَصرانی(یعنی کرسچین ) ہونے کا اقرار کیا اور مرگیا۔ لہٰذا میں اپنے خاتِمے کے بارے میں بے حد فِکر مندہوں اور ہر وقت خاتِمہ بِالخیر کی دعا مانگتا رہتا ہوں۔ حضرتِ سیِّدنا عبد اﷲبن احمد مُؤَذِّنرحمۃ اﷲ تعالیٰ علیہ نے اُس سے اِسْتِفْسار فرمایاکہ تمہارے دونوں بھائی آخر ایسا کون ساگناہ کرتے تھے ؟ اُس نے بتایا:''وہ غیر عورَتوں میں دلچسپی لیتے تھے اور اَمردوں (یعنی بے ریش لڑکوں)کو (شہوت سے)دیکھتے تھے۔ ''