| غیبت کی تباہ کاریاں |
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)جو مجھ پر ایک مرتبہ دُرُود شریف پڑھتا ہے اللہ تعالیٰ اُس کیلئے ایک قیراط اجر لکھتا ہے اور قیراط احد پہاڑ جتنا ہے ۔
اجازت نہیں۔ یاد رکھئے! مسلمان پر بد گمانی حرام ہے ۔ ایسے موقع پرکہے جانے والے مُتَوقَّع غیبتوں اور گناہوں بھرے جملوں کی 5 مثالیں مُلاحَظہ ہوں:(1)وہ ''اَمرد پرست ہے''(2)اُ س نے اَمرد سے جوڑی بنائی ہے (3)خوبصورت لڑکوں سے ترکیبیں بناتا ہے(4)نیَّت خراب معلوم ہوتی ہے (5)کچھ کیا تو جوتے کھائے گا وغیرہ وغیرہ ۔
حُسنِ ظن کا جام پیجئے
بِالفرض ذِہنی طور پروہ شخص واقِعی ایسا ہو تب بھی آپ کے پاس اِس کا کون سا واضِح قرینہ ہے؟ اگرآپ کے پاس یقینی معلومات ہیں تو اچّھی اچّھی نیّتیں کر کے بے شک اُس کو تنہائی میں سمجھایئے، آخِر دوسروں کے سامنے غیبت کرنے میں کیا مصلَحت ہے؟بَہَر حال توبہ توبہ اور توبہ تامّ کیجئے،اللہ عَزَّوَجَلَّ کا نام لیجئے ،کرنے کا کام کیجئے اور اگردل کے اندر بدگُمانی پیداہو رہی ہے تو حُسنِ ظن کا جام پیجئے کہ فرمانِ مصطَفٰے صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہے:
حُسنُ الظَّنِّ مِنْ حُسْنِ الْعِبَادَۃِ
یعنی حسنِ ظن عمدہ عبادت ہے ۔
(مُسندِ اِمام احمد ج ۳ ص ۵۴۷ حدیث ۱۰۳۶۸)
دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی اِدارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ 1548 صَفحات پر مشتمل کتاب ، ''فیضانِ سنَّت'' جلد اوّل صَفْحَہ 523 پر ہے میرے آقا اعلیٰ حضرت،اِمامِ اَہلسنّت،مولیٰناشاہ امام اَحمد رضا خان علیہ رحمۃُ الرَّحمٰن نقل فرماتے ہیں:خبیث گمان خبیث دل ہی سے پیداہو تا ہے ۔
(فتاوٰی رضویہ ج ۲۲ ص ۴۰۰)
بے شک دل کا حال ربِّ ذُوالجلال عَزَّوَجَلَّ ہی جانتا ہے لہٰذا جو لو گ واقِعی '' امردپرست'' ہیں اور باوُجُود شہوت کے ان سے دوستیاں کرتے ہیں۔ اُن کو خدا کا خوف کرنا چاہے۔اور اِس لرزہ خیز حکایت پر غور کر کے اپنی عاقبت کی فکر کرنی چاہے چُنانچِہ
(19)دواَمْرَد پسند مؤَذِّنوں کی بربادی
دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی اِدارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ472 صَفحات پر مشتمل کتاب ، ''بیاناتِ