Brailvi Books

غیبت کی تباہ کاریاں
326 - 504
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)مجھ پر کثرت سے دُرُود پاک پڑھو بے شک تمہارا مجھ پر دُرُود پاک پڑھنا تمہارے گناہوں کیلئے مغفرت ہے۔
المُرتَضٰی
كَرَّمَ اللہُ تعالٰی وَجْھَہُ  الْکَرِیْم
فرماتے ہیں:جوکوئی چھینک آنے پر
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَلٰی کلِّ حَال
کہے تو وہ داڑھ اور کان کے درد میں کبھی مبتَلانہیں ہوگا۔
 (مِرْقَاۃُ الْمَفَاتِیْح ج۸ ص۴۹۹تحت الحدیث ۴۷۳۹)
(3)چھینک آنے پر
اَلْحَمْدُ لِلّٰہ
کہنا چاہیے بہتر یہ ہے کہ
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْن
یا
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَلٰی کلِّ حَال
کہے ۔ (4)سننے والے پر واجب ہے کہ فو راً
''یَر حَمُکَ اللہ ''
 (یعنی اللہ عَزَّوَجَلَّ تجھ پر رحم فرمائے)کہے ۔ اور اتنی آواز سے کہے کہ چھینکنے والاخود سن لے ۔
 (بہارِشریعت حصّہ۱۶ص۱۱۹)
 (5)جواب سن کر چھینکنے والاکہے:
''یَغْفِرُاللہُ لَنَاوَلَکُمْ ''
 (یعنی اللہ عَزَّوَجَلَّ ہماری اور تمہاری مغفِرت فرمائے ) یایہ کہے :
''یَھْدِیْکُمُ اللہُ وَیُصْلِحُ بَالَکُمْ ''
 (یعنی اللہ عَزَّوَجَلَّ تمہیں ہدایت دے اورتمہارا حال درست کرے)۔
 (عالَمگیری ج ۵ ص ۳۲۶)
 (18)اَمْرد کے ساتھ مذاق کرنے والے کی غیبت
    حضرتِ سیِّدُنا شیخ سعدی علیہ رَحمَۃُ اللہِ الھادی فرماتے ہیں:ایک عابد(یعنی عبادت گزار آدمی)نے کسی'' لڑکے''سے خوش طَبعی (مذاق مسخری)کی۔ جب دوسرے عابِدوں کو معلوم ہوا تو وہ بدگمانیوں اور غیبتوں میں پڑ گئے کہ اَوہو!ایسا پرہیز گار آدَمی ہو کر بھی اَمْرد(یعنی خوبصورت لڑکے)کے چکّر میں پھنس گیا وغیرہ۔ رفتہ رفتہ یہ خبر اُس عابِد تک پہنچ گئی تو اُس نے کہا :اے لوگو!اللہ عَزَّوَجَلَّ  نے ''لڑکے ''کے ساتھ صاف نیّت والوں کیلئے تفریحاً ہنسنے بولنے کو حرام نہیں کیا، اَلبتّہ بدگُمانی اور غیبت کو ضَرور حرام کیا ہے۔ تمہیں کس نے کہہ دیا کہ بدگمانی اور غیبت حلال ہے!
                         (ماخوذ از:بوستانِ سعدی ص۱۸۹ )
کسی کو''اَمرد پرست''کہنا
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!واقِعی قابلِ توجُّہ حکایت ہے ۔ اِس میں کوئی شک نہیں کہ بڑے اسلامی بھائیوں کواَمردوں (بے رِیش لڑکوں)سے دُور ہی رہنا چاہے، تاہم کسی کو اَمْرد کے ساتھ دیکھ کراس کے بارے میں بدگُمانیاں کرنے کی شرعاً ہرگز
Flag Counter