Brailvi Books

غیبت کی تباہ کاریاں
324 - 504
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)مجھ پر دُرُود پاک کی کثرت کروبے شک یہ تمہارے لئے طہارت ہے ۔
 (15)مرا ہوا خچّر
    حضرتِ سیِّدُنا عَمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک مردہ خچر کے قریب سے گزرے تو بعض احباب سے ارشاد فرمایا:اسے پیٹ بھر کر کھانا مسلمان کا گوشت کھانے(یعنی غیبت کرنے)سے بہتر ہے۔
                    (التوبیخ والتنبیہ لابی الشیخ الاصبہانی ص۹۷رقم ۲۱۲)
صَلُّوا  عَلَی الْحَبِیب !            صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
 ( 16)انسان نُما کُتّوں کا سالن
    حضرتِ سیِّدُنا امام زین العابِدین علیہ رَحمَۃُ اللہِ المبین نے کسی شخص کو غیبت کرتے ہوئے سنا تو فرمایا: غیبت سے بچو، کیونکہ یہ انسان نُما کُتّوں کا سالن ہے۔
 (ذَمُّ الْغِیبَۃلِابْنِ اَبِی الدُّنْیا ص۱۸۱رقم۱۶۱)
كُتّوں سے تشبیہ دینے كی وجہ
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مظلوم کربلاحضرتِ سیِّدُنا امام زین العابدین علیہ رَحمَۃُ اللہِ المبین نے غیبت کرنے والوں کوانسان نُما کتّوں کے ساتھ اس لئے تشبیہ دی ہے کہ قراٰنِ مجید اور احادیثِ مبارَکہ میں غیبت کو مردار کا گوشت کھانے کی مثل بتایا گیا ہے اور مردار کاگوشت چبانا اور کھانا کتّوں کا کام ہے لہٰذا غیبت کرنے والے گویا کُتّوں کی مثل ہو کر آدمیوں کی اَقسام سے خارِج ہوئے کیونکہ اگر آدَمی ہوتے تو ان میں آدمی کی صفت ہوتی اور انسان کی خصلت ان میں پائی جاتی ،کسی کی غیبت نہ کرتے ،کسی کا گوشت کُتّوں کی طرح نہ چباتے۔
نبی کا صدقہ سدا غیبتوں سے دور رکھنا       کبھی بھی  چُغلی کروں  میں نہ یا رب!

ترے  حبیب اگر  مسکراتے آ جائیں       تو گورِتیرہ میں ہو جائے چاند نا یا رب!
صَلُّوا  عَلَی الْحَبِیب !            صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
Flag Counter