عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام
ایک مرتبہ کہیں تشریف لئے جارہے تھے،اِثنائے راہ شیطان کو دیکھا کہ ایک ہاتھ میں شہد اور دوسرے میں راکھ اُٹھائے چلا جارہا تھا، آپ
عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام
نے پوچھا:اے دشمنِ خدا!یہ شہد اور راکھ تیرے کس کام آتی ہے؟بولا:شہدغیبت کرنے والوں کے ہونٹوں پر لگاتا ہوں تاکہ اس گناہ میں وہ اور آگے بڑھیں اور راکھ یتیموں کے چِہروں پر ملتا ہوں تاکہ لوگ ان سے نفرت کریں۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!واقِعی غیبت کی بھی عجیب لذّت ہے کہ جس کو اِس مُہلِک مرض کی چاٹ لگ جاتی ہے وہ جب تک کسی کی بُرائی نہ بیان کر لے اُس کو ایک گونہ بے چینی سی رہتی ہے اور جب غیبت کر کے''بھڑاس'' نکال لیتا ہے تو سکون مل جاتا ہے مگر یہ وہ سُکون ہے جو کہ بَہُت ساری بے سُکونیوں کا باعِث ہے ۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ اِس ''نام نہاد بھیانک سُکون''سے ہمیں محفوظ و مامون فرمائے اور ہمیں اپنی اور اپنے پیارے حبیب صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی سچّی مَحَبَّت کی بیقراری نصیب فرمائے۔
اٰمِین بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
مِرے دل کو دردِ الفت وہ سُکون دے الہٰی!
مری بیقراریوں کو نہ کبھی قرار آئے