Brailvi Books

غیبت کی تباہ کاریاں
322 - 504
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)تم جہاں بھی ہو مجھ پر دُرُود پڑھوکہ تمہارا دُرُود مجھ تک پہنچتا ہے ۔
چاہے گناہ آسمان تک پہنچ گئے ہوں
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ربُّ الْعزّت عَزَّوَجَلَّ کی رحمت بَہت بڑی ہے ، بِالفرض کسی سے بڑے سے بڑے گناہ بھی سرزد ہو گئے ہوں، وہ مایوس نہ ہو، بے شک توبہ کا دروازہ کُھلا ہوا ہے۔ بندہ صِدق دل سے اُس کے دربارِ کرم بار میں جھک جائے تو اُس کا فضل و کرم اپنی آغوش میں لے ہی لیتا ہے۔ نبیّ اَکرم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:
لَوْ أَخْطَأْتُمْ حَتّٰی تَبْلُغَ خَطَایَاکُمُ السَّمَاءَ ثُمَّ تُبْتُمْ لَتَابَ عَلَیْکُمْ۔
ترجمہ:اگر تم اتنے گناہ کر و کہ وہ آسمان تک پہنچ جائیں پھر خدا عَزَّوَجَلَّ سے توبہ کرو تو اللہ عَزَّوَجَلَّ تمہاری تو بہ قبول فرمائے گا۔
 (سُنَنِ اِبن ماجہ ج۴ص ۴۹۰حدیث ۴۲۴۸)
بلکہ توبہ کرنے والے سے اللہ تبارک و تعالیٰ اِس قَدَرراضی ہوتاہے کہ ہم اِس کااندازہ ہی نہیں لگا سکتے !اس ضِمن میں دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ 132 صَفحات پر مشتمل کتاب ، ''توبہ کی روایات وحکایات ''صَفْحَہ12پر مرقوم ہے :سیِّدُ المُبلِّغِیْن ، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کافرمانِ مَسرَّت نشان ہے :اللہ عَزَّوَجَلَّ اپنے مومن بندے کی تو بہ سے اس شخص سے زیادہ خو ش ہوتا ہے جو کسی ہلا کت خیز زمین پر پڑ اؤ کرے اسکے ساتھ اس کی سُواری بھی ہوجس پر اسکے کھانے پینے کا سامان لدا ہو اہو پھروہ سررکھ کرسوجائے اور جب بیدا ر ہو تو اُس کی سُواری جاچکی ہو ، وہ اسے تلاش کرے یہاں تک کہ اُس پردھوپ اور پیاس یا جو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے چاہا غالب آ گئی اور وہ پریشا ن ہوکر کہے کہ میں اسی جگہ لوٹ جاتا ہوں جہاں سور ہا تھا پھرسوجاتا ہو ں یہاں تک کہ مرجا ؤ ں پھر وہ اپنی کلائی پر سر رکھ کر مرنے کے لئے سو جائے پھرجب بید ار ہوتواسکے پاس اُس کی سُواری موجود ہو اور اس پر اس کا تو شہ بھی موجود ہو تواللہ عَزَّوَجَلَّمومن بندے کی تو بہ پر اس شخص کے اپنی سُواری کے لوٹنے پرخوش ہونے سے بھی زیادہ راضی ہوتا ہے ۔(یعنی اللہ عَزَّوَجَلَّ اس  کے گناہوں کو معاف فردیتا ہے اور اس پر انعام واکرام کرتا ہے )
 (صَحیح مُسلِم ص۱۴۶۸ حدیث ۲۷۴۴ )
Flag Counter