Brailvi Books

غیبت کی تباہ کاریاں
319 - 504
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)جو شخص مجھ پر درود پاک پڑھنا بھول گیا وہ جنت کا راستہ بھول گیا۔
کرنے کی نسبت فرمایا:''جیسے اپنے مُردہ بھائی کا گوشت کھانا۔''اور حدیث میں فرمایا:''غیبت زنا سے بھی سخت تر ہے۔''
 (اَلْمُعْجَمُ الْاَ وْسَط ج۵ص۶۳حدیث ۶۵۹۰)
اگرچِہ غیبت کی وجہ سے روزہ کی نورانیَّت جاتی رہتی ہے۔ صَفْحَہ 996پرفرماتے ہیں:جھوٹ، چغلی، غیبت، گالی دینا ، بیہودہ (یعنی بے حیائی کی )بات، کسی کو تکلیف دینا کہ یہ چیزیں ویسے بھی ناجائز و حرام ہیں روزے میں اور زیادہ حرام اور ان کی وجہ سے روزے میں کراہت آتی ہے ۔
            (بہارِشریعت)
ہر خطا تو در گزر کر  بیکس و مجبور کی

یا الہٰی ! مغفرت کر بیکس و مجبور کی
(12)ایک ہیجڑے کی مغفِرت کی حکایت
     جو لوگ ہیجڑے (مُخَنَّث۔زَنخے۔خُنثیٰ)سے نفرت کرتے اور اسے حِقارت سے دیکھتے ہیں ،ان کوایسا نہیں کرنا چاہے کہ یہ بھی اللہ عَزَّوَجَلَّ  کابندہ ہے اور اُسی عَزَّوَجَلَّ نے اِسے پیدا فرمایا ہے اورہیجڑے کوبھی چاہے کہ گناہوں اور ناچ گانوں جیسے حرام اور جہنَّم میں لے جانے والے کام سے پرہیز کرے، اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رضا پر راضی رہتے ہوئے سنّتوں بھری زندگی گزارے۔جو فطرۃًمُخَنَّث یعنی ہجڑا ہو اُسے خود کو ستائے جانے کے سبب دل تھوڑا کرنے کے بجائے اللہ رَبُّ الْعِزَّت عَزَّوَجَلَّ  کی رَحمت پر نظر رکھنی چاہے۔آیئے! ایک خوش نصیب ہیجڑے کی حکایت ملاحَظہ فرمایئے ، شاید ہرہیجڑے کو اس پر رشک آئے کہ کاش!میرے ساتھ بھی ایسا ہی ہو۔ چُنانچِہ حضرتِ سیِّدُناشیخ عبدُالوہّاب بن عبد المجید ثَقفی علیہ رحمۃاللہ القوی فرماتے ہیں: میں نے ایک جنازہ دیکھا جسے تین مرد اور ایک خاتون نے اُٹھا رکھا تھا، خاتون کی جگہ میں نے اُٹھا لیا، نَمازِ جنازہ کی ادائیگی اور تدفین کے بعد میں نے اُس خاتون سے معلوم کیا : مرحوم سے آپ کا کیا رشتہ تھا؟بولی: میرا بیٹا تھا۔ پوچھا: پڑوسی وغیرہ جنازے میں کیوں نہیں آئے؟ کہا:دراصل میرا فرزند مُخَنَّث (یعنی خُنثیٰ۔ ہیجڑا)تھا ۔اِس لئے لوگوں نے اِس کے جنازے میں شرکت کو اَھَمِّیَّت نہیں دی۔ سیِّدُنا شیخ عبدالوہّاب بن عبد المجید علیہ رحمۃ الحمید
Flag Counter