حضرتِ سیِّدُنا ربیع بن صبیح علیہ رَحمَۃُ اللہ السَّمیع فرماتے ہیں: دو آدمی مسجد الحرام شریف
زادَھُمَااللہُ شَرَفًاوَّ تَعظِیْماً
کے ایک دروازے کے قریب بیٹھے تھے کہ اتنے میں ایک آدَمی گزرا جو کہ مُخَنَّث معلوم ہو رہا تھا، اسے دیکھ کر نا گواری محسوس کرتے ہوئے دونوں وہاں سے اُٹھ گئے۔جب نَماز کا وَقت ہواتو دونوں نے باجماعت نَماز ادا کی ۔ پھر انہیں احساس ہوا کہ ہم کہیں دل کی غیبت میں تو مبتَلا نہیں ہو گئے! چُنانچِہ فوراً حضرتِ سیِّدُنا عَطاء رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی خدمتِ بابَرَکت میں حاضِر ہو کر مسئلہ (مَس۔ءَ۔لَہ)پوچھا ، فرمایا:وُضو کر کے اپنی نَماز دُہراؤ، جب انہوں نے بتایا کہ ہمارا روزہ بھی ہے تو فرمایا:اپنے روزے کی بھی قَضا کرو!
(ذَمُّ الْغِیبَۃلِابْنِ اَبِی الدُّنْیا ص۸۵ رقم۴۲)
کیا غیبت سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے؟
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!معلوم ہوا کسی مسلمان کیلئے جذبہ حَقارت و نفرت اوربدگُمانی دل میں جمانا دل کی غیبت ہے۔ دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ بہارِ شریعت جلد اوّل صَفْحَہ 984پر صدرُ الشَّریعہ ،بدرُ الطَّریقہ حضرتِ علامہ مولیٰنامفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں:احتِلام ہوا یا غیبت کی تو روزہ نہ گیا
اگرچِہ غیبت بَہُت سخت کبیرہ(گناہ)ہے۔ قراٰنِ مجید میں غیبت