میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دیکھا آپ نے!غیبت نے فوتگی کے بعد پھنسا کر رکھ دیا!غیبت ،چغلی،بدگمانی وغیرہ ایسی نامُراد آفات ہیں کہ بسا اوقات انسان کوحِینِ حیات یعنی جیتے جی بھی عبادات سے دُور کر کے مزید گناہوں کے تندور میں جھونک دیتی ہیں ،چُنانچِہ حضرتِ سیِّدنا شیخ ابو القاسم قُشَیری علیہ رَحمَۃُ اللہِ القوی نقل کرتے ہیں کہ سیِّدُنا شیخ ا بو جعفر بلخی علیہ رحمۃُ اللہِ القوی فر ما تے ہیں:ہمارے ہاں بلخ میں ایک نوجوان تھا۔یوں تو وہ خوب عبادت وریاضت کیا کرتا مگر غیبت کی آفت میں مبتَلا تھااکثر کہتا :فُلاں ایسا ہے ،فُلاں ویسا ہے ۔ ایک روز میں نے اسے لوگوں کے کپڑے دھونے والے ہیجڑوں کے پاس سے نکلتا دیکھا، میں نے اُس سے اِس کا سبب پوچھا ، کہنے لگا : یہ لوگوں کوبُرا بھلا کہنے یعنی غیبتیں کرنے کی سزا ہے کہ مجھے اس حال میں ڈال دیا گیا ہے، افسوس !میں ان میں سے ایک مُخَنَّث(یعنی ہیجڑے)کی مَحَبَّت میں مبتَلاہو گیا ہوں ، اُسی مُخَنَّث کے عشق کی وجہ سے میں ان دھوبی ہیجڑوں کی خدمت کرتا ہوں اورربِّ ذوالجلال عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے پہلے مجھے جوباطِنی احوال حاصل تھے سب جاتے رہے ۔ لہٰذا آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ مجھ پر رحم فرمائے۔