رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ ایک درخت کے نیچے کھڑا تھا کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اُس دَرَخت کی ایک خشک ٹہنی کو پکڑا اور اسے ہلایا یہاں تک کہ اس کے پتّے جھڑ گئے پھر فرمایا:اے ابوعثمان !کیا تم مجھ سے نہیں پوچھو گے کہ میں نے ایسا کیوں کیا ؟میں نے پوچھا کہ آپ نے ایسا کیوں کیا؟ تو فرمایا:ایک مرتبہ میں رحمتِ عالم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے ساتھ ایک دَرَخت کے نیچے کھڑا تھا تو سرکارِمدینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اسی طرح کیا اور اس دَرَخت کی ایک خشک ٹہنی کو پکڑ کر ہلایایہاں تک کہ اس کے پتّے جھڑ گئے پھر فرمایا:اے سَلْمَان !کیاتم مجھ سے نہیں پوچھو گے کہ میں نے یہ عمل کیوں کیا ؟میں نے عرض کی:آپ نے ایسا کیوں کیا ؟ارشاد فرمایا:بیشک جب مسلمان اچھی طرح وُضو کرتاہے اورپانچ نَمازیں ادا کرتاہے تو اس کے گناہ اس طرح جھڑتے ہیں جس طرح یہ پتّے جھڑجاتے ہیں۔پھر آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے یہ آیت مبارَکہ پڑھی :