Brailvi Books

غیبت کی تباہ کاریاں
311 - 504
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)جب تم مُرسلین (علیھم السلام )پر دُرُود پاک پڑھو تو مجھ پر بھی پڑھو بے شک میں تمام جہانوں کے رب کا رسول ہوں ۔
کیا امامِ اعظم نے حسن بصر ی کی غیبت کی؟
مذکورہ حکایت میں سیِّدُناامامِ اعظم ابو حنیفہ علیہ رَحمَۃُ اللہِ الاکرم نے سیِّدُنا حسن بصری علیہ رَحْمَۃُ اللہِ القوی کی یہ کہہ کر غیبت کی کہ''انہوں نے اِجتہادی خطا کی،''مگر یہ جائز غیبت تھی کیوں کہ ایک مفتی شَرعی مسئلے پر خطا کرے تو دوسرامُفتی اُس کا رد کر سکتا ہے ۔ چُنانچِہ بہارِ شریعت''حصّہ 16 صَفْحَہ 178تا179پر ہے: حدیث کے راویوں اور مقدّمے (CASE)کے گواہوں اور مُصَنِّفِین پر جِرح کرنا اور ان کے عُیُوب بیان کرنا جائز ہے اگر راویوں کی خرابیاں بیان نہ کی جائیں تو حدیثِ صحیح اور غیرِ صحیح میں امتیاز نہ ہوسکے گا۔ اسی طرح مُصَنِّفِین کے حالات نہ بیان کیے جائیں تو کُتبِ مُعتَمدہ وغیرِمُعتَمدہ(یعنی قابلِ اعتماد وناقابلِ اعتماد کتابوں)میں فرق نہ رہے گا ۔ گواہوں پر جِرح نہ کی جائے تو حُقُوقِ مسلمین کی نگہداشت (دیکھ بھال)نہ ہوسکے گی۔
حسد کی بیماری بڑھ چلی ہے ، لڑائی آپس میں ٹھن گئی ہے      شہا مسلمان  ہوں  مُنظَّم ،امام اعظم ابوحنیفہ

مٹا مری غیبتوں کی عادت، ہو دُوربے جا ہنسی کی خصلت      دُرُود پڑھتا رہوں میں ہر دم امامِ اعظم ابو حنیفہ
صَلُّوا  عَلَی الْحَبِیب !               صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد

تُوبُوا اِلَی اللہ!               اَسْتَغْفِرُاللہ

صَلُّوا  عَلَی الْحَبِیب !               صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(6)امام اعظم علیہ رحمۃ اللہ الاکرم نے کبھی دشمن کی بھی غیبت نہیں کی
    ایک مرتبہ حضرت سیِّدُناعبداللہ ابنِ مُبارَک علیہ رحمۃ اللہ المالِک نے حضرتِ سیِّدُناسُفیان ثَوری علیہ رحمۃ اللہ القوی سے کہاکہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ ''امامِ اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ غیبت سے اتنا زیادہ بچتے ہیں کہ میں نے کبھی ان کو دشمن کی غیبت کرتے بھی نہیں سنا!۔''
                         (مِرْقاۃُ الْمَفاتِیح ج۱ ص۷۷)
Flag Counter