حضرتِ سیِّدُنا اِمام احمدبن حَجَرمَکِّی شَافِعِی علیہ ر حمۃ اللہِ القوی نقل کرتے ہیں: عُلَماء کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلام فرماتے ہیں:انسان کے کسی ايسے عیب کا ذکر کرنا جو اس ميں موجود ہوغيبت کہلاتا ہے ،اب وہ عیب چاہے اُس کے دين، دنيا، ذات، اَخلاق، مال، اولاد، بيوی، خادِم، غلام،عِمامہ،لباس، حرکات وسکنات ، مسکراہٹ، ديوانگی، تُرش رُوئی اور خوش روئی وغیرہ کسی بھی ایسی چیز میں ہو جو اس کے مُتَعَلِّق ہو ۔ جسمانیت میں غیبت کی مثالیں:اندھا ، لنگڑا، گنجا، ٹِھگنا، لمبا، کالا اور زرد وغيرہ کہنا۔دین میں غیبت کی مثالیں:فاسِق، چور، خائن، ظالم، نَماز ميں سُستی کرنے والا، اور والِدَين کا نافرمان وغيرہ کہنا۔ مزید آگے چل کر نقل فرماتے ہیں:کہا جاتا ہے کہ''غيبت ميں کھجورکی سی مٹھاس اور شراب جيسی تیزی اور سرور ہے۔ ''اللہ عَزَّوَجَلَّ اس آفت سے ہماری حفاظت فرمائے اور ہماری طرف سے غیبت والوں کے حُقُوق (محض اپنے فضل و کرم سے )خود ہی ادا فرمائے کیونکہ اُس عَزَّوَجَلَّ کے علاوہ انہیں کوئی شمار نہیں کر سکتا۔