صدرُ الشَّریعہ،بدرُ الطَّریقہ حضرتِ علامہ مولیٰنامفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القوی نے غیبت کی تعریف اس طرح بیان کی ہے:کسی شخص کے پوشیدہ عیب کو اس کی برائی کرنے کے طور پر ذکر کرنا۔
(بہارِ شریعت حصّہ ۱۶ ص ۱۷۵)
غیبت کی تعریف از ابنِ جَوزی
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! افسوس کہ آج ہماری اکثریّت کو غیبت کی تعریف تک معلوم نہیں حالانکہ اِس کے بارے میں ضَروری اَحکام جاننا فرض علوم میں سے ہے۔دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ 300 صَفحات پر مشتمل کتاب ، ''آنسوؤں کادریا''صَفْحَہ 256 پر حضرتِ علّامہ
اَبُو الْفَرَج عَبْدُ الرَّحمٰن بِن جَوزِی علیہ رَحمَۃُ اللہِ القوی
نے اَحادیثِ مبارکہ کی روشنی میں غیبت کی جو تعریف بیان فرمائی ہے، وہ یہ ہے:تو اپنے بھائی کو ایسی چیز کے ذَرِیعے یاد کرے کہ اگروہ سن لے یا یہ بات اسے پہنچے تو اسے ناگوار گزرے اگر چِہ تو اس میں سچّا ہو خواہ اس کی ذات میں کوئی نَقْص (خامی)بیان کرے یا اس کی عَقل میں یا اس کے کپڑو ں میں یا اس کے فعل یا قول میں کوئی کمی بیان کرے یا اس کے دین یا اس کے گھر میں کوئی نَقص (عیب)بیان کرے یا اس کی سواری یا اس کی اولاد، اس کے غلام یااس کی کنیز میں کوئی عیب بیان کرے یااس سیمتَعَلِّق (یعنی تعلُّق رکھنے والی)کسی بھی شے کا (برائی کے ساتھ)تذکرہ کرے یہاں تک کہ تیرا یہ کہنا کہ اس کی آستین یادامن لمباہے سب غیبت میں داخل ہیں ۔