ملازِمین کے بارے میں بِلا مصلحتِ شرعی بولے جانے والے گناہوں بھرے کلمات و فِقرات کی مثالیں* کام چور ہے * سُست ہے* ڈھیلا ہے * جب دیکھو چُھٹیاں کرتا ہے* حرام خور ہے* دکان میں چوریاں کرتا ہے *کام پر بھیجو تو بہت ٹائم پاس کر کے آتا ہے* جب دیکھو بس فون پر لگا رہتا ہے *بہت منہ چڑھا ہے*بات بات پرناراض ہو جاتا ہے* گاہک کو برابر''ڈِیل''نہیں کرسکتا* باؤلا* احمق *بدّھو ہے* اِس کے نخرے بڑھ گئے ہیں* ایک تو دیر سے آتا ہے اور* جلدی بھاگنے کی کرتا ہے* دکان میں چوری ہو گئی ہے مجھے فلاں نوکر پرشک ہے۔
دُکانداروں کی آپَسی غیبت کی10 مثالیں
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!کاروبار میں اونچ نیچ ہوتی رہتی ہے ، احادیثِ مبارَکہ سے مُستفاد ہوتا ہے کہ گناہوں کے باعث بھی بے برکتی ہوتی ہے۔ مسلمان کو چاہے کہ اگر کبھی بے برکتی ہو یا بِکری میں کمی آئے تو اپنے اعمال کا محاسبہ کرے مگر بعض لوگ ایسے موقع پر شیطان کے بہکاوے میں آ کر بدگمانیوں ، غیبتوں اور تہمتوں پر اتر آتے ہیں اور کچھ یوں کہتے سنائی دیتے ہیں:*لگتا ہے فُلاں میرے کاروبار کی ترقّی دیکھ نہیں سکتا* میرے گاہک توڑتا ہے *جان بوجھ کر دام کم بتا کر میرے گاہک خراب کر دیتا ہے* خود ملاوٹ والا مال بیچتا ہے مگر* میرے گاہک کو بدظن کرنے کیلئے میری چیزوں کو ملاوٹ والی کہتا ہے* بدمعاشی کر کے میری دُکان کے آگے پتھارا لگوا دیا ہے* یہ چاہتا ہے کہ بس کسی طرح میں یہ دُکان چھوڑ