Brailvi Books

غیبت کی تباہ کاریاں
305 - 504
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)جس نے مجھ پر دس مرتبہ صبح اور دس مرتبہ شام درود پاک پڑھا اُسے قِیامت کے دن میری شفاعت ملے گی۔
والے اس غیبت(و تہمت)کی وجہ سے اِس سے اپنے حق کے طلبگار ہوئے تو کہیں اہلِ محشر یہ نہ کہیں کہ دیکھو! فُلاں کی بیوی سے روئی بیچنے والے اپنا حق مانگ رہے ہیں!اس لئے میں نے اسے طَلَاق دے دی!
   (تَنبِیہُ الْغافِلین ص۸۹)
تاجِروں کی غیبت کی 17مثالیں
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!کسی قوم یا محکمے کی غیبت کرنا مَثَلاًکہنا:''پولیس والے رشوت خور ہوتے ہیں۔''یہ گناہوں بھری غیبت نہیں کیوں کہ محکمہ پولیس یا قوم یا گروپ کے اندر اچّھے بُرے دونوں طرح کے لوگ ہوتے ہیں البتَّہ کسی قوم یامحکمہ پولیس کے ہر ہر فرد کی بُرائی مقصود ہو توضَرور غیبت ہے۔مذکورہ حکایت میں کسی مخصوص روئی والے کا نہیں مطلَقاً ''روئی والوں''کا ذکر ہے۔ اِس لحاظ سے تویہ غیبت نہ ہوئی مگر ہو سکتا ہے کہ اُس گاؤں میں روئی کی دویا تین ہی دکانیں ہوں اور اُس عورت نے جو غیبت بھری گفتگو کی اِس کے سیاق و سباق سے اُس نیک آدمی نے یہی مُراد سمجھی ہو کہ وہ ہمارے یہاں کے ہر ہر روئی والے کو خائن و ٹھگ کہہ رہی ہے لہٰذاخوفِ قیامت کے سبب فوراً طلاق دیدی ہو۔
وَ اللہُ تعالٰی اَعلَمُ وَ رَسُولُہ ٗ اَعلَم عَزَّوَجَلَّ
وَ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ۔بَہَرحال اِس حکایت سے وہ لوگ عبرت حاصل کریں جو بلا کسی مصلحتِ شرعی بات بات پر تاجِروں کی غیبت و تہمت کے مُتَعَلِّق بِلا تکلف اِس طرح کے جملے کہتے رہتے ہیں:* اِس نے ٹھگ لیا*ٹھگی ہے* ٹھگیاہے * گاہکوں کولوٹتا ہے* نفع زیادہ لیتا ہے* اِس کا مال سب سے مہنگا ہوتا ہے* دھوکے باز ہے* ملاوٹ کرتا ہے* تول میں ڈنڈی مارتا ہے* چکنی چُپڑی باتیں کر کے گاہک کو پھانس لیتاہے *بہت لالچی ہے۔ سب سے آخِر میں دکان بند کرتا ہے * کپڑا کھینچ کر ناپتا ہے *اُدھار مال لیکر لوٹا نے کا نام نہیں لیتا*اس سے قرض کی وُصولی آسان نہیں،دھکے بَہُت کھلاتا ہے * سود خور ہے *نہ جانے کتنوں کے پیسے کھا کے بیٹھا ہے* جھوٹی قسمیں کھاتا ہے۔
Flag Counter