کسی کے منہ پر اُس کا عیب بیان کرنا حرام ہے کيونکہ اِس سے اُسے ہاتھوں ہاتھ تکليف پہنچتی ہے جبکہ غیر موجودَگی ميں غيبت کرنے سے اُسے تکلیف نہیں پہنچتی کیوں کہ اسے اس کی اطِّلاع ہی نہيں ہوتی۔
اس کا ایک جواب یہ ہے کہ(پارہ 26سورۃُ الحُجُرات آیت نمبر 12 میں اس لفظ )مَیْتًا(یعنی مُردہ)کی قید سے یہ اعتراض خود بخود ختم ہو جاتا ہے وہ اس طرح کہ اپنے مُردہ بھائی کا گوشت کھانے سے خود کھائے جانے وا لے کو (ظاہراً)کوئی تکليف نہيں ہوتی، حالانکہ يہ انتہائی گھٹیا اوربُرا فعل ہے ۔ تاہم وہ مُردہ جان لے کہ میرا گوشت کھایا جا رہا ہے تو اُسے ضَرور تکليف پہنچے۔ اِسی طرح کسی کی غیر موجودگی ميں اس کے عیب بیان کرنا بھی حرام ہے کيونکہ جس کی غيبت کی گئی اگر اسے اطّلاع ہو جائے تو اُسے بھی تکليف ہوگی۔
(اَلزَّواجِرُ عَنِ اقْتِرافِ الْکبائِر ج۲ ص۱۰)
سرکارِنامدار، مدینے کے تاجدار صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اِستِفسار فرمایا :کیا تم جانتے ہو غیبت کیا ہے؟ عرض کی گئی :اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کا رسول صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم بہتر جانتے ہیں۔ فرمایا:(غیبت یہ ہے کہ)تم اپنے بھائی کا اِس طرح ذکرکرو جسے وہ ناپسند کرتا ہے۔ عرض کی گئی :اگر وہ بات اس میں موجود ہو تو؟فرمایا :جو بات تم کہہ رہے ہو اگر وہ اُس میں موجود ہو تو تم نے اس کی غیبت کی اور اگر اس میں نہ ہو تو تم نے اُس پر بہتان باندھا۔
(صَحیح مُسلِم ص۱۳۹۷ حدیث ۲۵۸۹)
مُفَسّرِشہیر حکیمُ الْاُمَّت حضر تِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃ الحنّان فرماتے ہیں:غیبت سچے عیب بیان کرنے کو کہتے ہیں اور بہتان جُھوٹے عیب بیان کرنے کو،غیبت ہوتی ہے سچ مگر ہے حرام۔اکثرگالیاں سچّی ہوتی ہیں مگر ہیں