(سُن ن ابوداو،د ج۴ ص ۳۳۲ حدیث ۴۸۰۰)
اَستَغفِرُاللہ کہنے کی فضیلت
لوگوں کی موجودَگی میں ہر طرح کی معصیَت،بلکہ ناپسندیدہ حَرَکت مَثَلاً فُضول گوئی صادِر ہونے پر بلکہ موقع کی مناسَبَت سے بِلاعُنوان بھی بُلند آواز سے اوّل آخِر
کہدینا چاہے کہ ہر وقت توبہ واستِغفار کرتے رہنا کا رِ ثواب ہے۔ فرمانِ مصطَفٰے صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہے:
مَنِ اسْتَغْفَرَ اللہَ غَفَرَلَہ ٗ
یعنی جو کوئی اللہ تعالیٰ سے اِستِغْفَار (یعنی مغفِرت طلب)کریگا اللہ تعالیٰ اُس کی مغفِرت فرما دے گا۔(
کہنا بھی اِسْتِغْفار یعنی مغفرت طلب کرنا ہے)
(سُنن تِرمِذی ج۵ ص۲۸۸ حدیث ۳۴۸۱)
البتّہ گناہ سرزد ہوا ہو تو اس کی محض رسمی توبہ کافی نہیں دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ 480 صَفحات پر مشتمل کتاب ، ''بیاناتِ عطّاریہ''حصّہ اوّل کے صَفْحَہ79پر ہے:صدرُ الافاضِل حضرتِ علامہ مولیٰنا سیِّد محمد نعیم الدّین مُراد آبادی علیہ رحمۃ اللہ الھادی فرماتے ہیں:توبہ کی اصل رُجوع اِلی اللہ (یعنی اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف رجوع کرنا)ہے اس کے تین رکن ہیں :(1)اعتِرافِ جرم(2)نَدامت(3)عزمِ ترک (یعنی اِ س گناہ کو ترک کر دینے کا پکّا ارادہ)اگر گُناہ قابلِ تَلافی ہو تو اِس کی تَلافی(یعنی نقصان کا بدلہ)بھی لازِم مَثَلاً تارِکُ الصَّلوٰۃ(یعنی بے نَمازی)کیلئے پچھلی نَمازوں کی قَضا بھی لازِم ہے۔