| غیبت کی تباہ کاریاں |
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)جس کے پاس میرا ذکر ہو اور وہ مجھ پر دُرُود شریف نہ پڑھے تو لوگوں میں وہ کنجوس ترین شخص ہے۔
اس حکایت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ بِلا اجازتِ شرعی پیٹھ پیچھے کسی مسلمان کے جسمانی عیب بیان کرنا مثلاً* کالا* بُھورا* بدصورت * کوڑھی* گنجا * موٹا* لمبا*ٹھگنا*کانا*ا ندھا* بہرا* گونگا *بانڈا *بھینگا * لُولا *لنگڑا*کُبڑا کہنا غیبت ہے۔بعض اسلامی بھائی کالی رنگت والے اسلامی بھائی کو بِلالی کہتے ہیں، بِلا ضَرورت یہ بھی نہ کہا جائے کہ پیٹھ پیچھے سے کہنا غیبت میں شمار ہو گا کیوں کہ جس کو''بلالی''کے مُراد ی معنیٰ معلوم ہوں گے یعنی جو سمجھتا ہو گا کہ میں کالا ہوں اِس لئے مجھے ''بِلالی''کہہ رہے ہیں تو اُس کو بُرا لگ سکتا ہے۔ ہاں اگر کسی مخصوص اسلامی بھائی کی پہچان ہی بلالی ہے تو اِس نیّت سے بِلالی کہنے میں حَرَج نہیں۔
گناہ ہوتے ہی فوراً توبہ کرنا واجِب ہے
حضرت سیِّدُنا امام نَوَوی علیہ رحمۃ اللہ القوی سے منقول ہے :جُوں ہی گناہ صادِر ہو فوراً توبہ کر لینا واجِب ہے خواہ صغیرہ گُناہ ہی کیوں نہ ہو۔
(شَرحُ النّووی علی صَحِیح مُسلِم الجزء السّابع عشر ص۵۹ )
کسی کی بات غیبت نہ تھی مگر آپ نے غیبت کہہ دی تو؟
کسی بات کو گناہ بھری غیبت قرار دینے کیلئے معلومات ہونا ضَروری ہے اگر آپ نے بے سوچے سمجھے کسی کی بات کو غیبت ٹھہرا یا اور اُس کے مُرتکِب کو گنہگار قرار دیا اور وہ گنہگار نہیں تھا تو اِس صورت میں آپ گنہگا ر ہوں گے توبہ اُس پر نہیں آپ پر واجِب ہو جائے گی!بَہَرحال آپس میں یہ ضَرور طے کر لیجئے کہ غیبت نہ ہو رہی ہوپھر بھی اگر کسی نے غَلَط فَہمی کے سبب
تُو بُو ا اِلَی اللہ
کہہ دیا تب بھی ہم''جھگڑے ''کی کیفیت پیدا نہ ہونے دیں گے ورنہ شیطان کو دوسرے زاویے سے یعنی لڑوانے اور دلوں میں بُغض و کینہ ڈلوانے کے ذَرِیعے گناہ کروانے کا موقع ہاتھ آسکتا ہے۔
جھگڑے سے بچنے کی فضلیت
خدا نخواستہ کبھی دو اسلامی بھائی لڑ پڑیں تو موقع پا کر تیسرا بلند آواز سے
صَلُّوا علَی الْحبیب
کہہ دے ، دونوں دُرُود شریف پڑھتے ہوئے صُلح (صُل ْ ۔ ح )