(یعنی میں اﷲتعالیٰ سے بخشش چاہتا ہوں )
اِنْ شَاءَاللہ عَزَّوَجَلَّ
اِس طرح ہاتھوں ہاتھ توبہ کی سعادت مل جائے گی ۔ جنہوں نے غیبت کرتے نہ سنا ہو ان سے احتیاط لازِمی ہے، آواز وانداز ایسے نہ ہوں کہ جن کو پتا نہ تھا ان کو بھی معلوم ہو جائے کہ فُلاں نے
کسی کو کالا کہنا بھی غیبت ہے
ہمارے بزرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللہُ المبین توبہ کے معاملے میں بالکل نہیں شرماتے تھے چُنانچِہ حُجَّۃُ الْاِسلام حضرت سیِّدُنا امام محمدبن محمد غزالی علیہ رحمۃ اللہ الوالی نقل فرماتے ہیں:حضرتِ سیِّدُنا امام ابن سِیرین علیہ رَحْمَۃُ اللہِ المُبین نے ایک شخص کا ذِکر کرتے ہوئے فرمایا :وہ آدمی سیاہ فام(یعنی کالا)ہے پھر فرمایا:
یعنی ''میں اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کرتا ہوں''میں سمجھتاہوں کہ میں نے اس کی غیبت کی ہے ۔
(اِحیاءُ الْعُلوم ج۳ ص۱۷۸)
بِغیر شرمائے فورا ً توبہ کر لینی چاہئے
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!ہمارے بزرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللہُ المُبین کاخوفِ خدا مرحبا!اتنے زبردست بُزُرگ نے فوراً سب کے سامنے توبہ کر لی اس میں یہ بھی درس ملا کہ خدانخواستہ کبھی لوگوں کے سامنے غیبت وغیرہ گناہ سرزدہو جائے تو احساس ہوتے ہی بِغیر شرمائے سب کے سامنے توبہ کر لی جائے ۔ اگر بعد میں احساس ہوگیا اور توبہ کر لی تو جن جن کے سامنے غیبت کاگناہ کیا ان کو اپنی توبہ پرمُطَّلع کر دیا جائے ۔توبہ کا یہ قاعدہ ذِہن میں رکھئے جیسا کہ حدیثِ پاک میں ہے:سلطانِ دو جہان ، مدینے کے سلطان، رحمتِ عالمیان ، سرورِذیشان صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کافرمانِ عبرت نشان ہے:جب تم کوئی گناہ کرو تو توبہ کرلو،
اَلسِّرُّبِالسِّرِّ وَالْعَلَانِیَہُ بِاْلعَلانِیَۃ
یعنی پوشیدہ گناہ کی توبہ پوشیدہ اورعَلانیہ گناہ کی توبہ عَلانیہ۔
(اَلْمُعْجَمُ الْکبِیر لِلطّبَرانی ج۲۰ ص ۱۵۹ حدیث ۳۳۱)