یعنی اللہ عَزَّوَجَلَّ نے تمہارے ساتھ کیامُعامَلہ کیا؟ تو اُنہوں نے کہا: میری مغفِرت کر دی۔ میں نے پوچھا:مغفِرت کا کیا سبب بنا؟ کہا:اس تکبیر کہنے پر جو میں ایک جنگل میں کہی تھی۔میں نے پوچھا :فَرَزْدَق کا کیا ہوا؟ تو اُنہوں نے کہا:افسوس پاک دامن عورَتوں پرتہمت لگانے کے باعِث وہ ہلاکت میں گرفتار ہوا۔
(شَرْحُ الصُّدُور ص۲۸۵،البدایۃوالنّھایۃج۶ص۴۰۹)
ہائے !ہائے !ہائے!ہم نے نہ جانے زندگی میں کتنوں پر بُہتان باندھے ہونگے ! آہ ! ؎
ہر جُرم پہ جی چاہتا ہے پھوٹ کے روؤں
افسوس مگر دل کی قَساوَت۱؎ نہیں جاتی
ایک دوسرے کوغیبت سے بچانے کا طریقہ
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!جِن جن خوش ن صیبوں کا یہ ذِہن بن رہا ہو کہ ہمیں غیبت کے مُوذی مَرَض سے چھٹکارا پانے کیلئے کوششیں تیز تر کر دینی ہیں وہ آپس میں طے کر لیں کہ ہم میں سے اگر معاذاﷲکوئی غیبت شروع کردے تو جو موجود ہو وہ اپنی قُوّت کے مطابق زَبان سے ٹوک کر روک دے اور توبہ کرنے کا کہے نیز اوّل آخِر
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
(1)سختی