| غیبت کی تباہ کاریاں |
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)جو مجھ پر روزِ جمعہ دُرُود شریف پڑھے گا میں قِیامت کے دن اُس کی شفاعت کروں گا۔
اسلامی کے اِشاعتی ادارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ 312 صَفحات پر مشتمل کتاب ، ''بہارِ شریعت''حصّہ 16 صَفْحَہ 181پرصدرُ الشَّریعہ،بدرُ الطَّریقہ حضرتِ علامہ مولیٰنامفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں:بُہتان کی صورت میں توبہ کرنا اور مُعافی مانگنا ضَروری ہے بلکہ جن کے سامنے بہتان باندھا ہے ان کے پاس جا کر یہ کہنا ضَروری ہے کہ میں نے جھوٹ کہا تھا جو فُلاں پر میں نے بہتان باندھا تھا۔
(بہارِ شریعت حصّہ ۱۶ ص۱۸۱)
نفس کے لئے یقینا یہ سخت گِراں ہے مگر دنیا کی تھوڑی سی ذلّت اٹھانی آسان مگر آخِرت کا مُعامَلہ انتِہائی سنگین ہے، خدا عَزَّوَجَلَّ کی قَسم !دوزخ کا عذاب برداشت نہیں ہو سکے گا۔ لہٰذاپڑھئے اور لرزئیے :
بُہتان کا عذاب
نبیِّ رَحمت ،شفیعِ امّت،شَہَنْشاہِ نُبُوَّت ، تاجدارِ رسالت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:جو کسی مسلمان کی بُرائی بیان کرے جو اس میں نہیں پائی جاتی تو اس کو اللہ عَزَّوَجَلَّ اس وقت تک دوزخیوں کے کیچڑ ،پیپ اور خون میں رکھے گا جب تک کہ وہ اپنی کہی ہوئی بات سے نہ نکل آئے۔
(سُنَنِ ابوداو،د ج۳ ص۴۲۷ حدیث ۳۵۹۷)
گناہ کے اِلزام کا عذاب
لوگوں پر گناہوں کی تہمت لگانے والوں کے عذاب کی ایک دل ہلا دینے والی روایت مُلاحظہ ہو چُنانچِہ جنابِ رسالت مآب صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے خواب میں دیکھے ہوئے کئی مناظر کا بیان فرما کر یہ بھی فرمایا کہ کچھ لوگوں کو زَبانوں سے لٹکایا گیا تھا ۔میں نے جبرئیل
عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام
سے اُن کے بارے میں پوچھا تو اُنہوں نے بتایا کہ یہ لوگوں پر بِلاوجہ اِلزامِ گُناہ لگانے والے ہیں۔
(شَرْحُ الصُّدُور ص۱۸۲)
شکّی مِزاجوں کو تَنبیہ
جو شکّی مِزاج عورتیں اپنے مردوں پر تہمتیں دھرتیں اور اس طرح کی باتیں کرتی ہیں کہ* کسی عورت کے چکّر میں ہے* سب پیسے اُسی کو دے آتا ہے وغیرہ یوں ہی