| غیبت کی تباہ کاریاں |
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)جب تم مُرسلین (علیھم السلام )پر دُرُود پاک پڑھو تو مجھ پر بھی پڑھو بے شک میں تمام جہانوں کے رب کا رسول ہوں ۔
دنیا ہی میں مُعاف کروالینے میں عافیّت ہے
سلطانِ دوجہان، مدینے کے سلطان، رحمتِ عالمیان ، سرورِذیشان صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ عبرت نشان ہے:جس کے ذمّے اپنے بھائی کا آبرو وغیرہ کسی بات کا مَظلِمہ(یعنی ظلم)ہو،ا سے لازِم ہے کہ یہیں اس سے مُعافی چاہ لے قبل اس وقت کے آنے کے کہ وہاں نہ دینار ہوں گے اور نہ درہم اگر اس کے پاس کچھ نیکیاں ہوں گی تو بقَدَر اُس کے حق کے اِس سے لے کر اُسے دی جائیں گی ورنہ اُس کے گناہ اِس پررکھے جائیں گے۔
(صَحیح بُخاری ج۲ ص۱۲۸ حدیث ۲۴۴۹)
سب نے صَفِ محشر میں لَلکار دیا ہم کو اے بیکسوں کے آقا اب تیری دُہائی ہے
بہتان کی تعریف
کسی شخص کی موجودگی یا غیرموجودگی میں اُس پر جھوٹ باندھنا بہتان کہلاتا ہے ۔
(اَلْحَدِیْقَۃُ النَّدِیَّۃ ج۲ ص۲۰۰)
اس کو آسان لفظوں میں یوں سمجھئے کہ بُرائی نہ ہونے کے باوُجُود اگر پیٹھ پیچھے یا رُوبَرو وہ برائی اُس کی طرف منسوب کردی تو یہبُہتان ہوا مثلاً پیچھے یا منہ کے سامنے ریا کار کہہ دیا اور وہ ریا کار نہ ہو یااگر ہو بھی تو آپ کے پاس کو ئی ثُبُوت نہ ہو کیوں کہ ریا کاری کا تعلُّق باطِنی امراض سے ہے لہٰذااس طرح کسی کو ریاکار کہنابہتان ہوا۔
بہتان سے توبہ کاطریقہ
بہتان سے توبہ کرے اس توبہ میں تین باتوں کاپایاجاناضَروری ہے:(1)آئندہ بہتان کوترک کرنے کاپکاارادہ کرنا(2)جس کاحق ضائع کیا،ممکن ہوتواس سے مُعافی چاہنا مَثَلاًصاحبِ حق زندہ اورموجود ہے نیزمُعافی مانگنے سے کوئی جھگڑایاعداوت پیدانہیں ہوگی(3)(جن)لوگوں(کے سامنے بہتان لگایا ان )کے سامنے اپنے جھوٹ (یعنی بہتان)کااقرارکرنایعنی یہ کہناکہ جومیں نے بہتان لگایاتھااس کی کوئی حقیقت نہیں۔
(اَلْحَدِیْقَۃُ النَّدِیَّۃ وَ الطَّرِیْقَۃُ الْمُحَمَّدِ یَّۃ ج ۲ ص ۲۰۹)
دعوتِ