میں ہے کہ میں نے حضرتِ سیِّدُنا ابو محمد رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے پوچھا کہ اگر غیبت اس شخص تک نہیں پہنچی جس کی غیبت کی گئی تھی تو غیبت کرنے والے کے لئے توبہ فائدہ مند ہو گی یا نہیں؟ انھوں نے فرمایا :ہاں ۔ (فائدہ مند ہوگی)کیونکہ اس نے بندے کے حق کے متَعَلِّق ہونے سے پہلے توبہ کر لی ہے، غیبت بندے کا حق(یعنی حُقُوق العبادمیں شامل)اُس وَقت ہو گی جب اُس تک پَہنچ جائیگی۔میں نے کہا کہ اگر توبہ کے بعد اُس شخص تک غیبت پہنچ جائے؟ فرمایا کہ اُس کی توبہ باطِل نہیں ہو گی بلکہ اللہ تعالیٰ دونوں کو بخش دے گا۔ غیبت کرنے والے کو توبہ کی وجہ سے اور جس کی غیبت کی گئی اُسے اُس تکلیف کی وجہ سے جو اسے غیبت سُن کر ہوئی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کریم ہے اس کے متَعَلِّق یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ کسی کی توبہ قَبول فرما کر رَد فرما دے بلکہ دونوں کو بخش دے گا۔
(مِنحُ الرّوض لِلقاری ص ۴۴۰)
ڈر تھا کہ عصیاں کی سزا، اب ہو گی یا روزِ جزا
دی اُن کی رحمت نے صدا ، یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں
جس کی غیبت کی اُس کو پتا چل گیا۔۔۔۔پھر مر گیا
حُجَّۃُ الْاِسلام حضرت سیِّدُنا امام محمدبن محمد غزالی علیہ رحمۃ اللہ الوالی فرماتے ہیں :''جس کی غیبت کی (اُ س کو پتا چل گیا اوراب )وہ مر گیا یا غائب ہو گیا اُس سے کس طرح مُعافی مانگے؟ یہ مُعامَلہ بہت دشوار ہوگیا !لہٰذا اب چاہیے کہ خوب