حضرتِ سیِّدُنا اِمام احمدبن حَجَرمَکِّی شَافِعِی علیہ ر حمۃ اللہِ القوی نقل کرتے ہیں:کسی کی برائی بیان کرنے میں خواہ کوئی سچّا ہی کیوں نہ ہو پھر بھی اس کی غیبت کو حرام قرار دینے میں حکمت مؤمن کی عزّت کی حفاظت ميں مبالَغہ کرنا ہے اور اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ انسان کی عزّت و حرمت اور اس کے حُقُوق کی بَہُت زیادہ تاکيد ہے، نیز اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اس کی عزّت کو گوشت اور خون کے ساتھ تَشبیہ دے کر مزید پختہ و مُؤَکَّد کر دیا اور اس کے ساتھ ہی مبالَغہ کرتے ہوئے اسے مُردہ بھائی کا گوشت کھانے کے مُتَرادِف قرار دیا چُنانچِہ پارہ 26سورۃُ الحُجُرات آیت نمبر 12میں ارشاد فرمايا:
اَیُحِبُّ اَحَدُکُمْ اَنۡ یَّاۡکُلَ لَحْمَ اَخِیۡہِ مَیۡتًا فَکَرِہۡتُمُوۡہُ ؕ
(ترجَمہ کنزالایمان:کیا تم میں کوئی پسند کریگا کہ اپنے مرے بھائی کا گوشت کھائے تو یہ تمہیں گوارا نہ ہو گا)عزّت کو گوشت سے تَشبيہ دینے کی وجہ يہ ہے کہ انسان کی بے عزّتی کرنے سے وہ ایسی ہی تکليف محسوس کرتا ہے جيسا کہ اس کا گوشت کاٹ کر کھانے سے اس کا بدن درد محسوس کرتا ہے بلکہ اس سے بھی زيادہ۔ کيونکہ عقلمند کے نزديک مسلمان کی عزّت کی قيمت خون اور گوشت سے بڑھ کر ہے۔سمجھدار آدمی جس طرح لوگوں کا گوشت کھانا اچّھا نہيں سمجھتا اسی طرح ان کی عزّت پامال کرنا بدرجہ اَولیٰ اچھا تصوُّر نہيں کرتا کيونکہ يہ ایک تکليف دِہ اَمر(یعنی مُعامَلہ)ہے اور پھر اپنے بھائی کا گوشت کھانے کی تاکيد لگانے کی وجہ يہ ہے کہ کسی کے لئے اپنے بھائی کا گوشت کھانا تو بَہُت دور کی بات ہے (معمولی سا)چبانا بھی ممکن نہيں ہوتا لیکن دُشمن کا مُعامَلہ اس کے برعکس ہے۔
(اَلزَّواجِرُ عَنِ اقْتِرافِ الْکبائِر ج۲ ص۱۰)