حضرتِ سیِّدُنا ابُو سعید خُدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ سلطانِ دوجہان، مدینے کے سلطان، رحمتِ عالمیان ، سرورِذیشان صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمان جنّت نشان ہے:جو شخص اپنے بھائی کا عیب دیکھ کر اس کی پردہ پوشی کردے تو وہ جنَّت میں داخِل کردیا جائے گا ۔
(مُسند عَبْد بن حُمَیْد ص۲۷۹حدیث۸۸۵)
جہنَّم میں چیخ رہے ہو ں گے!
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! سبحٰنَ اللہ!عیب پوشی کی فضیلت و اَھمِّیَّت کے بھی کیا کہنے!جو چیز آخِرت کیلئے جس قدر اہم ہو گی شیطان اُسی قَدَر اس کے پیچھے لگے گا ۔ لہٰذا مسلمان کو مسلمان کی عیب پوشی سے روکنے کیلئے پورا زور لگا دیتا ہے اور نوبت یہاں تک آ پہنچی ہے کہ آج مسلمانوں کی اکثریت مسلمانوں کی عیب دریوں اور غیبتوں میں مشغول ہے۔ اور اکثر کوئی کسی کی خامی ڈھکنے کیلئے تیّار ہی نہیں بِلا تکلُّف بلکہ بسا اوقات تو فخریہ دوسروں کے آگے بیان کر دیتا ہے، ان میں سے اگر کسی نے کسی کا عیب کبھی چھپا بھی لیا تو بس عارضی طور پر، جوں ہی کچھ ناراضی ہوئی کہ جتنے بھی عیب چھپا کر رکھے تھے سب پر سے ایک دم پردہ اُٹھا دیتا ہے!آہ!خوفِ آخِرت ہی جاتا رہا !یقینا جہنَّم کی سزا سہی نہیں جاسکے گی۔ حضرتِ سیِّدُنا عیسیٰ روحُ اللہ
عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام
فرماتے ہیں:کتنے ہی صحّت مند بدن ،خوبصورت چہرے اور میٹھا بولنے والی زَبانیں کل جہنَّم کے طبقات میں چیخ رہے ہوں گے !
(مُکاشَفۃُ الْقُلوب ص۱۵۲)