Brailvi Books

غیبت کی تباہ کاریاں
282 - 504
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)جس کے پاس میرا ذکر ہوا اور اُس نے مجھ پر درودِ پاک نہ پڑھا تحقیق وہ بد بخت ہوگیا۔
جو اپنے عیبوں کو جان لیتا ہے
حضرتِ سیِّدَتُنا رَابِعَہ عَدَوِیَّہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیھا فرماتی تھیں:بندہ جب اللہ ربُّ العزّت عَزَّوَجَلَّ  کی  مَحَبَّت کا مزہ چکھ لیتا ہیاللہ عَزَّوَجَلَّ  اُسے خود اُس کے اپنے عَیبوں پرمُطَّلع فرما دیتا ہے پس اِس وجہ سے وہ دوسروں کے عیبوں میں مشغول نہیں ہوتا ۔ (بلکہ اپنے عیبوں کی اصلاح کی طرف متوجِّہ رہتا ہے)
                (تَنبِیہُ الْمُغتَرِّیْن ص۱۹۷)
چُھپی ہوئی باتوں کی ٹَٹَول مت کرو!
رسولِ اکرم، نُورِ مُجَسَّم ، رَحمتِ عالَم ، شاہِ بنی آدم ، رسولِ مُحتَشَم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ معظَّم ہے:اے وہ لوگو جو زَبان سے ایمان لائے اور ایمان ان کے دلوں میں داخل نہیں ہوا، مسلمانوں کی غیبت نہ کرو اور ان کی چھپی ہوئی باتوں کی ٹَٹَولنہ کرو، اس لیے کہ جو شخص اپنے مسلمان بھائی کی چھپی ہوئی چیز کی ٹَٹَول کریگا، اﷲ تعالیٰ اس کے عیب ظاہر فرما دے گا اور جس کے اﷲ (عَزَّوَجَلَّ)عیب ظاہر کریگا۔اُس کو رُسوا کر دے گا، اگرچِہ وہ اپنے مکان کے اندر ہو۔
                             (سُنن ابوداو،د ج۴ص۳۵۴ حدیث ۴۸۸۰)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! کسی مسلمان کے عَیبوں کی ٹوہ میں نہیں پڑنا چاہے، ربِّ کائنات عَزَّوَجَلَّ پارہ 26سورۃُ الحُجُرات آیت نمبر 12میں ارشاد فرماتاہے:
وَّ لَا تَجَسَّسُوۡا
 ترجَمہ کنزالایمان:اور عیب نہ ڈھونڈو۔'' صدرُ الافاضِل حضرتِ علامہ مولیٰنا سیِّد محمد نعیم الدّین مُراد آبادی علیہ رحمۃ اللہ الھادی فرماتے ہیں:یعنی مسلمانوں کی عیب جوئی نہ کرو اور ان کے چھپے ہوئے حال کی جستجو میں نہ رہو جسے اللہ تعالیٰ نے اپنی ستّاری سے چھپایا۔
 (خزائنُ العرفان ص ۸۲۳)
اللہ عَزَّوَجَلَّ عیب پوشی فرمائے گا
حضرتِ سیِّدُنا عبدُاللہ ابنِ عمررضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رَسُولِ اکرم، نُورِ مُجَسَّم،شَاہِ بَنِی آدَم ،مَحبُوبِ ربُّ الْاَعظم عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے نہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ اسے بے یارو
Flag Counter