صِرف اپنے عیبوں کو دیکھئے
جب کبھی دوسرے کے عیب بیان کرنے کوجی چاہے اُس وقت اپنے عُیُوب کی طرف مُتَوجِّہ ہوکران کو دُورکرنے میں لگ جانا چاہے، خدا عَزَّوَجَلَّ کی قسم!یہ بَہُت بڑی سعاد ت مندی ہے ۔،سرکارِ دو عالم،نُورِ مجَسَّم ، شاہِ بنی آدم ، رسولِ مُحتَشَم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: اُس شخص کے لئے خوشخبری ہے جسے اس کے عیوب (پر نظر)نے دوسروں کی عیب جوئی سے پھے ر دیا۔
(اَلْفِرْدَوْس بمأثور الْخَطّاب ج۲ ص۴۴۷ حدیث۳۹۲۹)
حضرتِ سیِّدُنا عبد اللہ بن عبّاس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کا فرمان ہے:جب تو کسی کے عُیُوب بیان کرنے کا ارادہ کرے تو اپنے عیبوں کو یا د کر لیا کر۔
(ذَمُّ الْغِیبَۃلِابْنِ اَبِی الدُّنْیا ص۹۵ رقم۵۶ )
اپنے عیبوں کوجاننے کے باوُجُود ۔۔۔۔
حضرت سیِّدُنا زید قُمِّی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں:وہ شخص کیسا عجیب ہے جسے معلوم ہے کہ مجھ میں فُلاں عیب ہے پھر بھی اپنے آپ کو اچّھا انسان سمجھتا ہے جبکہ اپنے مسلمان بھائی کو صرف شک (یا سنی سنائی بات)کی بنیاد پر بُرا آدمی تصوُّر کرتا ہے۔ پس عَقْل کہاں ہے؟
(تَنبِیہُ الْمُغتَرِّیْن ص۱۹۷)