اِس ضمِن میں دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ 1548 صَفحات پر مشتمل کتاب ، ''فیضانِ سنَّت''صَفْحَہ533پر ہے :
اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ
صلوٰۃ وسنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک ،دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول میں رَمَضانُ المبارَک کے آخِری عشرہ میں مساجِد کے اندر اجتِماعی اعتِکاف کا سلسلہ ہوتا ہے جس میں مُعتَکِفین کی سنَّتوں بھری تربیَّت کی جاتی ہے۔ مُعاشَرہ کے کئی بگڑے ہوئے اَفراد دَورانِ اعتِکاف گناہوں سے تائب ہو کر زندَگی کے نئے دَور کا آغاز کرتے ہیں۔ بعض اوقات ربِّ کائنات عَزَّوَجَلَّ کی عنایات سے ایمان افروزکَرِشمات کابھی ظُہُور ہوتا ہے چُنانچِہ رَمَضانُ المبارَک ۱۴۲۵ھ کے اجتِماعی اعتِکاف میں دعوتِ اسلامی کے عالمی مَدَنی مرکز فیضانِ مدینہ بابُ المدینہ کراچی میں جہاں کم و بیش 2000 مُعتَکِفِین تھے ، اُن میں ضِلع چکوال(پنجاب، پاکستان)کے 77سالہ مُعَمَّربُزُرگ حافِظ محمد اشرف صاحِب بھی مُعتَکِف ہو گئے۔ قِبلہ حافِظ صاحِب کا ہاتھ اور زَبان مَفلوج تھے اور قوّتِ سماعت بھی جواب دے چکی تھی ۔وہ بڑے خوش عقیدہ تھے۔ اُنہوں نے ایک بار اِفطار کے کھانے میں بَصَد حُسنِ ظن ایک مُبَلِّغ سے جُوٹھا کھانا لیکر کھایا، اُسی سے دَم بھی کروایا،بس اُن کے حسنِ ظن نے کام کر دکھایا، رَحمتِ اِلہٰی عَزَّوَجَلَّ کو جوش آیا، اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ان کو شِفا یاب فرمایا۔
اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ
اُن کا فالج کا مرض جاتا رہا ۔ انہوں نے ہزاروں اسلامی بھائیوں کی موجودگی میں فیضانِ مدینہ کے مَنچ پر چڑھ کربَصَد عقیدت اپنے رُوبہ صِحّت ہونے کی بِشارت سُنائی، یہ نویدِ جانفِزا سُن کرفَضاء
''اللہ ، اللہ,اللہ, اللہ''
کی پُر کیف صداؤں سے گونج اُٹھی۔ اُن دنوں کئی