صدرُ الافاضِل حضرتِ علامہ مولیٰنا سیِّد محمد نعیم الدّین مُراد آبادی علیہ رحمۃ اللہ الھادی خزائنُ العِرفان صَفْحَہ823 پر لکھتے ہیں: میٹھے میٹھے آقا مدینے والے مصطَفٰے صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم جب جِہاد کیلئے روانہ ہوتے یا سفر فرماتے تو ہر دو مالدار کے ساتھ ایک نادار مسلمان کو کر دیتے کہ یہ غریب اُن کی خدمت کرے اور وہ اس کو کھلائیں پلائیں اس طرح ہر ایک کا کام چلتا رہے۔ اسی طرح ایک موقع پر حضرت سیِّدُنا سَلْمان رضی اﷲ تعالیٰ عنہ دو آدمیوں کے ساتھ کئے گئے تھے۔ ایک روز آپ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سو گئے اور کھانا تیّا ر نہ کر سکے تو ان دونوں نے انہیں کھانا طلب کرنے کیلئے بارگاہِ رسالت میں بھیجا ۔ سرکارِ مدینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے ''خادِمِ مَطْبَخ''(یعنی باروچی خانے کے خادم)حضرتِ سیِّدُنا اُسامہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ تھے ۔ ان کے پاس کھانا ختم ہو چکا تھا لہٰذا اُنہوں نے کہا:میرے پاس کچھ نہیں ۔ جب حضرتِ سیِّدُناسَلمان رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے دونوں رُفَقا ء کو آکر بتایا تو انہوں نے کہا :''اُسامہ (رضی اﷲتعالیٰ عنہ )نے بُخل کیا۔''جب بارگاہِ رسالت میں حاضِر ہوئے تو سرکارِ نامدار صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے(بِاِ ذنِ پرورد گارعَزَّوَجَل َّ غیب کی خبر دیتے ہوئے )فرمایا:''میں تمہارے مُنہ میں گوشت کی رنگت دیکھتا ہوں ''اُنہوں نے عرض کیا :ہم نے گوشت کھایا ہی نہیں ۔ فرمایا :تم نے غیبت کی اور جو مسلمان کی غیبت کرے اُس نے مسلمان کاگوشت کھایا۔
اللہ ربُّ العبادتبا رَکَ وَ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: