اُٹھے نہ آنکھ کبھی بھی گناہ کی جانب عطا کرم سے ہو ایسی مجھے حیا یا رب
کسی کی خامیاں دیکھیں نہ میری آنکھیں اور سنیں نہ کان بھی عیبوں کا تذکِرہ یا رب
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
غیبت نیکیوں کی برباد ی اور جہنَّم میں داخلے کا سبب بن گئی تو!
جب کسی کی غیبت کرنے کو جی چاہے تو خود کو یوں ڈرایئے کہ بروزِ قیامت کس قَدَر حسرت کا مقام ہو گا اگر غیبت کرنے کے سبب میری نیکیاں دوسروں کے نامہ اعمال میں اور اُن کے گناہوں کا بوجھ میرے سر پرآپڑااور غیبت کے گناہ کے باعث فرِشتے مجھے سُوئے جہنَّم لے چلے تو میرا کیا بنے گا!
مال دینے میں بخیل مگر نیکیاں لٹانے میں سخی!
حضرتِ سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم علیہ رَحمَۃُ اللہِ الاکرم غیبت کرنے والے کی سَرزَنِش کرتے (یعنی ڈانٹ پلاتے )ہوئے فرماتے ہیں:اے جھوٹے انسان!تُو اپنے دوستوں کو تو دنیا کا حقیر مال دینے سے بُخْل کر تا رہا مگر آخِرت کا مال (یعنی نیکیوں کا خزانہ)تونے اپنے دشمنوں پر لٹا دیا!نہ تیرا دُنیوی بُخْل قابلِ قُبول نہ غیبتیں کر کرکے نیکیاں لُٹانے والی سخاوت مقبول۔
(تَنبِیہُ الْغافِلین ص۸۷)