میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!حضرت سیِّدُنا سفیان ثَوری علیہ رحمۃ اللہ القوی نے کتنے اچُھوتے انداز میں''زبان کی اِیذا''کی ہلاکت خیزیوں کی نشاندہی فرمائی ہے!واقِعی لوہے کے نوکیلے تیر کے مقابلے میں زبان کا زخم سخت تر ہوتا ہے۔تیر کازخم جلدی بھر جاتا ہے مگر زَبان سے کی ہوئی غیبت یا دل آزاری کا زخم آسانی سے نہیں بھرتا عَرَبی مَقُولہ ہے:
جَرْحُ الْکَلَامِ اَصْعَبُ مِنْ جَرْحِ الْحُسَامِ
. یعنی زبان کا زخم تلوارکے زخم سے زیادہ سخت ہو تا ہے۔
ذِکر و درود ہر گھڑی وِردِ زباں رہے
میری فُضُول گوئی کی عادت نکال دو
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
غیبت کی عادت نکالنے کا بہترین نُسخہ
کسی بھی مَرَض سے بچنے کا جذبہ پانے کیلئے اُس کے مُہْلکِات یعنی تباہ کاریاں جا ن نا مفید ہو تا ہے ۔لہٰذا دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ 312 صَفحات پر مشتمل کتاب ، ''بہارِ شریعت''حصّہ 16 صَفْحَہ169تا 182 اور اِحیا ءُ الْعُلوم جلد3 سے غیبت کا بیان ضَرور پڑھ لیجئے۔جس کا''نفسِ اَمّارہ''غیبت کا عادی ہو اُس کوقابو کرناآسان نہیں، وہ بَودی دلیلیں دیکر، زبردستی کی ضَرورتیں باوَر کر وا کر غیبت پر اُبھارتا رہے گا لہٰذا اس پر باربار عبرت کے تازیانے(یعنی کوڑے)برسانے ہوں گے،ایک آدھ بار وَعیدات و نقصانات پڑھ لینے سے کام چلنا بُہت مشکل ہے اوّل تو حافِظہ ہی اکثر کمزور اور پھر شیطان بھی ایسی باتیں فوراً بُھلا دیتا ہے۔ چُنانچِہ مشورہ ہے کہ شیطان لاکھ سُستی دلائے