کی مبارَک سوچ صد کروڑ مرحبا! کاش! ہمیں بھی ایسی سمجھ نصیب ہو جائے کہ کہاں کون سے اَلفاظ بولنے چاہیں ۔ بعض اوقات کسی دُنیوی شے پر مُتَبَرِّک الفاظ نہ بولنا بھی ادب ہوتا ہے جیساکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کاایک صِفاتی نام
بھی ہے لہٰذاکھانے کی چیز کیلئے
کا لفظ کہنا جائز ہونے کے باوُجُود بعض بندگانِ خدا کواچّھا نہیں لگتا۔ اِس غِذا کو اُردو میں کِھچڑا بھی کہتے ہیں لہٰذا وہ یہی لفظ استعمال کرتے ہیں۔تذکرۃُ الاولیاء میں ہے :حضرتِ سیِّدُنا بایزید بِسطامی قُدِّسَ سرُّہُ السّامی نے ایک بار سُرخ رنگ کا سیب ہاتھ میں لے کر فرمایا:''یہ بَہُت لطیف ہے۔''غیب سے آواز آئی:'' ہمارا نام سیب کیلئے استِعمال کرتے ہوئے حیا نہیں آئی!''اللہ عَزَّوَجَلَّ نے چالیس دن کیلئے اپنی یاد آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے قلب سے نکالدی۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے بھی قسم کھائی کہ اب کبھی (اپنے وطن )بِسطام (شہر کا نام)کا پھل نہیں کھاؤں گا۔
کا ایک لفظی معنیٰ''عُمدہ''بھی ہے مگر چُونکہ
اللہ عَزَّوَجَلَّ کاصِفاتی نام ہے اس لئے سیِّدُنا بایزید بِسطامی قُدِّسَ سرُّہُ السّامی کو تَنبِیہ کی گئی۔اللہ عَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری مغفِرت ہو۔
اٰمِین بِجَاہِ النَّبِیَّ الْاَمین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
حُسنِ اَخلاق ملے بھیک میں اِخلاص ملے
اِک بھکاری ہے کھڑا آپ کے دربار کے پاس
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
زَبان کا تیر خطا نہیں ہوتا
ہر صورت میں زَبان کی حفاظت کرنی چاہے کہ جب یہ چلتی ہے تو کیا کا کیا کر ڈالتی ہے!مشہور تابِعی بُزُرگ حضرتِ سیِّدُنا سفیان ثَوری علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں:لوگوں کا تیرپھینکنا زَبان کے ذریعے اذیّت پہنچانے سے زیادہ آسان ہے کیونکہ کمان کا تیر خطا ہو