| غیبت کی تباہ کاریاں |
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم) مجھ پر دُرُود شریف پڑھو اللہ تعالی تم پر رحمت بھیجے گا۔
مسلمان کی غیبت ودل آزاری کی صورت بن سکتی ہے، مَثَلاً* فُلاں کا گھوڑا مَریل ہے* اِس کی قربانی کی گائے کی ہڈیاں پسلیاں نظر آ رہی ہیں* اُس کا بکرا تو ہڈیوں کا ڈھانچا ہے *اُس کے مرغے کی بانگ کی آواز بے سُری ہے وغیرہ وغیرہ جُملوں میں ان جانوروں کے مالکان کی ایذاء کا پہلو موجود ہے لہٰذا یہ غیبت ہے۔
مرے ہوئے کُتّے کی بُرائی سے بھی بچو
حضرتِ سیِّدُنا مالک بن دینارعلیہ رَحمَۃُ اللہِ الغفّار فرماتے ہیں:حضرتِ سیِّدُنا عیسیٰ روحُ اللہ
عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام
ایک مرے ہوئے کُتّے کے پاس سے گزرے، حواریوں نے عرض کی:یہ کُتّا کس قَدَر بد بُو دار ہے!حضرتِ سیِّدُنا عیسیٰ روحُ اللہ
عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام
نے فرمایا: اِس کے دانت کتنے سفید ہیں !گویاآپ
عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام
نے ان کو مُردار کُتّے کی غیبت سے بھی منع فرمایا اور ان کو خبر دار کیا کہ بے زَبان جانوروں کی بھی خوبی کا ہی ذِکر کرنا چاہئے۔
(ماخوذاز اِحیاءُ الْعُلوم ج۳ ص ۱۷۷)
اللہ عَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری مغفِرت ہو۔
اٰمِین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
خِنزیر کیلئے عمدہ فِقرہ استعمال فرمایا
سُبحنَ اللہ!حضرتِ سیِّدُنا عیسیٰ روحُ اللہ
عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام
کے حُسنِ اَخلاق کے بھی کیا کہنے!واقِعی یہ آپ
عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام
کا ہی حصّہ تھا کہ مُردار کتّے کی بھی خوبی ہی کی طرف نظر فرمائی۔ ''تاریخِ دِمشق ''جلد 47 صَفْحَہ437 پرہے کہ حضرتِ سیِّدُنا عیسیٰ روحُ اللہ
عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام
کے سامنے سے ایک خِنزیر گز را، فرمایا:
'' مُرْ بِسَلَامٍ''
یعنی سلامتی سے گزر جاؤ ۔ لوگوں نے تَعَجُّب کے ساتھ عرض کی:
یا روحَ اللہ !
کیا وجہ ہے کہ آپ نے سُوَر کیلئے اتنا عمدہ جُملہ ارشاد فرمایا؟ فرمایا:میں اپنی زَبان پر بُری بات لانا نہیں چاہتا۔
(تاریخ دمشق ج۴۷ص۴۳۷)
اللہ عَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری مغفِرت ہو۔
اٰمِین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم