Brailvi Books

غیبت کی تباہ کاریاں
274 - 504
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)جو مجھ پر ایک مرتبہ دُرُود شریف پڑھتا ہے اللہ تعالیٰ اُس کیلئے ایک قیراط اجر لکھتا ہے اور قیراط احد پہاڑ جتنا ہے ۔
زَبان پر قفلِ مدینہ لگانا یعنی ضَرورت کی بات بھی کم سے کم الفاظ میں کرنا ،جہاں جہاں ممکن ہووہاں زَبان سے بولنے کے بجائے خاموش رہ کر لکھ کر یا اشارے سے کام چلانا بھی غیبت سے بچنے کے اسباب مُہیّا کر سکتا ہے ۔ مگر یہ ذِہن میں رہے کہ غیبت لکھ کربلکہ اشارے سے بھی ہو سکتی ہے اور جہاں کسی مسلمان کی گناہوں بھری غیبت ہو رہی ہو وہاں شَرعی رخصت کے بِغیر چُپ رہنے کی اجازت نہیں، غیبت کرنے والے کو غیبت سے باز رکھ کر اپنے مسلمان بھائی کی عزّت کی حفاظت کرے۔
نہ غیبت کریں گے نہ غیبت سنیں گے

بَعونِ  خدا  لب  پہ قابو  رکھیں گے
صَلُّوا  عَلَی الْحَبِیب !               صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
سُواری کے جانور پر لعنت مت کرو
دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ 312 صَفحات پر مشتمل کتاب ، ''بہارِ شریعت''حصّہ 16 صَفْحَہ166پر ہے:ایک شخص نے اپنی سواری کے جانور پر لعنت کی، رسولُ اﷲ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وسلَّم نے فرمایا: اس سے اتر جاؤ ہمارے ساتھ میں ملعون چیز کو لے کر نہ چلو، اپنے اوپر اور اپنی اولاد و اَموال پر بددعا نہ کرو کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ بددعا اُس ساعت میں ہو جس میں جو دعا خدا(عَزَّوَجَلَّ) سے کی جائے قَبول ہوتی ہے۔
(صَحیح مُسلِم ص۱۰۶۴ حدیث ۳۰۰۹ )
جانور کو بُرا کہنا
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!زَبان پر قابو پانے کی سخت ضَرورت ہے۔ جانوروں پر بھی لعنت کرنے کی مُمانَعَت ہے، بِلا ضَرورت ان کی بُرائی بھی زَبان سے کیوں نکلے!اب ظاہر ہے جو جانوروں کو بھی بُرا کہنے سے بچے گا وہ مسلمانوں کی غیبت سے بَدرَجہ اَولیٰ اجتِناب(یعنی پرہیز)کریگا۔البتّہ جانور کا عیب بیان کرنے کو مسلمان کی غیبت کی طرح کا جُرم نہیں قرار دیں گے ہاں اگر وہ جانورکسی مسلمان کا ہو ا تو اُس
Flag Counter