(3)جوچیز انسان کو سب سے زیادہ جنَّت میں داخِل کرنے والی ہے وہ تقویٰ اور حُسنِ خُلق (یعنی اچّھا اخلاق)ہے اور جو چیز انسان کو سب سے زیادہ جہنَّم میں لے جانے والی ہے وہ دو جَوف دار چیزیں ہیں منہ اور شرمگاہ ۔
(سُنَن تِرمِذی حدیث ۲۰۰۴ ص ۱۸۵۲)
(4)جو چپ رہا، اسے نجات ہے۔
(5)سُکوت (یعنی خاموشی )پر قائم رہنا ساٹھ برس کی عبادت سے افضل ہے ۔
(شُعَبُ الْاِیمان ج۴ص۲۴۵ حدیث ۴۹۵۳)
(6)زیادتئ خاموشی کو لازِم کرلو کہ اس سے شیطان دفع ہوگا اور تمہیں دین کے کاموں میں مدد دے گی۔
(7)میرے لیے چھ چیزوں کے ضامن ہوجاؤ میں تمہارے لیے جنَّت کا ذمّے دار ہوتا ہوں (۱)جب بات کرو سچ بولو اور (۲)جب وعدہ کرو اسے پورا کرو اور(۳) جب تمہارے پاس امانت رکھی جائے اُسے ادا کرو اور (۴)اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرواور (۵)اپنی نگاہیں نیچی رکھو اور (۶)اپنے ہاتھوں کو روکو(یعنی ہاتھ سے کسی کو ایذا نہ پہنچاؤ)
(مُسندِ اِمام احمد ج۸ ص۴۱۲ حدیث ۲۲۸۲۱)
مری زبان پہ'' قفلِ مدینہ'' لگ جائے فُضُول گوئی سے بچتا رہوں سدا یارب
اُٹھے نہ آنکھ کبھی بھی گناہ کی جانب عطا کرم سے ہو ایسی مجھے حیا یارب
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
تُوبُوا اِلَی اللہ! اَسْتَغْفِرُاللہ
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
قَطا(جو کہ کبوتر سے ملتا جُلتا پرندہ ہے)جب بولتا ہے تو کہتا ہے :
یعنی جو خاموش رہا سلامت رہا۔
(تفسیرِ قُرطُبی ج ۷ ص ۱۲۷)