Brailvi Books

غیبت کی تباہ کاریاں
271 - 504
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)مجھ پر دُرُود پاک کی کثرت کروبے شک یہ تمہارے لئے طہارت ہے ۔
غیبت ہو جاتی تو خیرات کرتے
حضرتِ سیِّدُنا امام محمدابنِ سیرین علیہ رَحمَۃُ اللہِ المُبین کی عادت تھی کہ اگر کبھی ان سے کسی کی غیبت سرزدہوجاتی تو خیرات کرتے تھے۔
 (تفسیر رُوحُ البیان ج۹ ص۸۹)
دودرہم کی حکایت
حضرتِ سیِّدُنا ابو اللَّیث بُخاری علیہِ رَحمۃُ اﷲِالْباری جب حج کیلئے نکلے تو دودرہم اِس نیّت سے جیب میں ڈالے کہ اگر گھر پلٹنے تک کہیں بھی غیبت صادِر ہوئی تو یہ دودرہم خیرات کر دوں گا ۔
اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ
سارا سفر غیبت سے بچے رہے اور وہ دو درہم جیب میں محفوظ رہے۔ انہیں کا فرمان ہے:میں ایک مرتبہ کی غیبت کو سو مرتبہ کے زِنا سے بد تر سمجھتا ہوں ۔
 (مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب ص۷۱ )
مذکورہ حِکایت کی وضاحت
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!حضرتِ سیِّدُناابواللَّیث رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ بڑیمُتَّقِی اور پرہیز گار بُزُرگ تھے آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی مَدَنی سوچ مرحبا! غیبت کا دروازہ مضبوطی سے بند کرنے کیلئے آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے دو درہم خیرات کرنے کی نیّت کی زبردست ترکیب فرمائی۔ یقیناحج کے دَوران غیبت کرنا عام حالات کے مقابلے میں زیادہ بڑا گناہ ہے اورجو غیبتوں ، چُغلیوں، دل آزاریوں،گندی گالیوں اور جملہ بے حیائیوں سے خود کو بچانے میں کامیابی حاصل کر لے وہ گناہوں سے پاک صاف ہو جائے چُنانچِہدعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ 1250 صَفحات پر مشتمل کتاب ، ''بہارِ شریعت''جلد اوّل صَفْحَہ 1031 پرفرمانِ مصطَفٰے صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہے:''جس نے حج کیا اور رَفَث(یعنی فحش کلام)نہ کیا اور فسق نہ کیا تو گناہوں سے پاک ہو کر ایسا لوٹا جیسے اُس دن کہ ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا۔''
 (بُخاری ج ۱ ص ۵۱۲حدیث ۱۵۲۱)
افسوس !آج کل جو لوگ حج کے واسِطے جاتے ہیں ان میں سے بے شمارحُجّاج وطن میں جس طرح گناہ کرتے رہے ہیں اسی طرح بے باکی سے راہِ مدینہ میں بھی لگے رہتے ہیں ، یہاں تک کہ احرام کی حالت میں بھی لوگوں کی خوب غیبتیں
Flag Counter