(دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارے مکتبۃُ المدینہ کا مطبوعہ رسالہ ، '' غصّے کا علاج'' کا مُطالَعَہ غصّے کی عادت نکالنے کیلئے ان شاء اللہ عَزَّوَجَلَّ بہترین مُعاوِن ثابِت ہو گا)
سُن لو نقصان ہی ہوتا ہے بالآخر اُن کو
نفس کے واسِطے غصّہ جو کیاکرتے ہیں
جب کسی کی پیٹھ پیچھے بُرائی کرنے کو جی چاہے تو غیبت کے عذابات کو یاد کیجئے ، مَثَلاً تانبے کے ناخُنوں سے اپنے چِہرے اور سینے کو نوچنے والا عذاب ، اپنے ہی پہلوؤں (یعنی کروٹوں)کا گوشت کاٹ کاٹ کرکھلائے جانے کا عذاب نیز تصوُّر کیجئے کہ بروز ِقِیامت اپنے مُردہ بھائی کا گوشت کھانا پڑے گا اور غیبت کرنے والا منہ بگاڑے چلّا تا ہوا اُسے کھائے گا ۔ اب سوچئے کہ حلال جانور کا تازہ گوشت بھی کچّا نہیں کھایا جاتا تو مرے ہوئے انسان کا گوشت کس طرح کھایا جاسکے گا؟
غیبت کا تائب آخِر میں جنّت میں جائیگا
منقول ہے :اللہ عَزَّوَجَلَّ نے حضرتِ سیِّدُنا موسیٰ کلیم ُاﷲ
عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُوَالسَّلام
کی طرف وَحی فرمائی کہ جو غیبت سے توبہ کر کے مرا وہ آخِری شخص ہو گا جو جنّت میں جائے گا اور جو غیبت پر اصرار کرتے ہوئے(یعنی غیبت پر قائم رہتے ہوئے)مرا وہ پہلا شخص ہو گا جو جہنَّم میں داخِل ہو گا۔