| غیبت کی تباہ کاریاں |
فرمانِ مصطَفےٰ:(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)جس نے مجھ پر سو مرتبہ دُرُود پاک پڑھا اللہ تعالیٰ اُس پر سو رحمتیں نازل فرماتا ہے ۔
کا علاج کیجئے، دوسروں کے آگی بھڑاس نکالنے کے بجائے مُعافی اور درگزر سے کام لیتے ہوئے جنَّت میں بے حساب داخلے کی تڑپ والا ذِہن بنایئے۔
مُعاف کرنے والوں کا بے حساب جنّت میں داخِلہ
مُعاف کر دینے کی فضیلت بھی ایسی ہے کہ منہ میں پانی آ جاتا ہے چُنانچِہ سرکارِ مدینہ ،راحتِ قلب وسینہ، فیض گنجینہ ، صاحِبِ مُعطَّر پسینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا ارشادِ باقرینہ ہے:قِیامت کے روز اعلان کیا جائے گا:جس کا اَجر اللہ عَزَّوَجَلَّ کے ذِمّہ کرم پر ہے، وہ اُٹھے اورجنَّت میں داخِل ہو جائے۔ پوچھا جائے گا:کس کے لیے اَجر ہے؟ وہ مُنادی (یعنی اعلان کرنے والا )کہے گا:''ان لوگوں کے لیے جو مُعاف کرنے والے ہیں۔''تو ہزاروں آدَمی کھڑے ہوں گے اوربِلا حساب جنَّت میں داخِل ہوجائیں گے۔
(اَلْمُعْجَمُ الْاَ وْسَط لِلطّبَرانی ج۱ ص۵۴۲ حدیث ۱۹۹۸)
کاش!ہمیں بھی مُعاف کر دینے کا جذبہ نصیب ہو جائے۔اور کاش!کاش!کاش!ہم بھی بے حساب جنَّت الفردوس میں داخِلے کی سعادت پا لیں۔
تو بے حساب بخش کہ ہیں بے شمار جُرم
دیتا ہوں واسطہ تجھے شاہِ حجاز کا
(ذوقِ نعت)بُرا کہنے سے بچنے والے کا خوش انجام
حضرتِ سیِّدُناشیخ سعدی علیہ رَحمَۃُ اللہِ القوی بوستانِ سَعدی میں نَقل کرتے ہیں:ایک نیک سیرت شخص اپنے ذاتی دشمنوں کا ذِکر بھی بُرائی سے نہ کرتا تھا۔جب بھی کسی کی بات چِھڑتی، اُس کی زَبان سے نیک الفاظ ہی ادا ہوتے۔ اُس کے مرنے کے بعد کسی نے خواب میں دیکھا تو پوچھا:
مَافَعَلَ اللہُ بِکَ؟
یعنی اللہ عَزَّوَجَلَّ نے تیرے ساتھ کیامُعامَلہ فرمایا؟ یہ سُوال سُن کر اُس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آ گئی اور وہ بُلبل کی طرح شِیریں (یعنی میٹھی)آواز میں بولا:دنیا میں میری یِہی کوشِش ہوتی تھی