صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
تُوبُوا اِلَی اللہ! اَسْتَغْفِرُاللہ
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
''بھڑاس ''نکالنا غیبت میں ڈال سکتا ہے
کسینے دل دُکھادیا، سخت غصّہ آگیا اور صبر کا دامن ہاتھ سے چھوٹ گیا اِس سبب سے دِل دُکھانے والے کے بارے میں اگر کسی کے آگے''بھڑاس''نکلنے لگی تو سمجھو کہ جہنَّم کی آگ اکٹّھی ہونی شرو ع ہو گئی کہ اب غیبت وبُہتان تراشی جیسے کبیرہ گناہ ،حرام اور دوزخ میں لیجانے والے کام سے آپ کو شاید کوئی نہ بچا پائے کیوں کہ جب کوئی غصّے اور جذبات کے عالم میں بھڑاس نکال رہا ہوتا ہے اُس وَقْت عُمُوماًسننے والا بھی سَہم جاتا ہے اوراُس کی اِصلاح نہیں کر پاتا۔اُس دلِ سیاہ سے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی پناہ جو ہدا یت کی بات سننے کیلئے تیار نہ ہو۔ آہ!غیبت کی تباہ کاری ! حضرتِ سیِّدُنا ابو قِلابہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:غیبت دل کو ہدایت اور بھلائی سے محروم کر دیتی ہے۔
(تَنبِیہُ الْمُغتَرِّیْن ص۱۹۱)