Brailvi Books

غیبت کی تباہ کاریاں
264 - 504
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)جس کے پاس میرا ذکر ہوا اور اُس نے مجھ پر درودِ پاک نہ پڑھا تحقیق وہ بد بخت ہوگیا۔
نعمت اور گناہ کے درمیان پاتا ہوں لہٰذا میں نعمتوں کے شکر اور گناہوں سے توبہ میں مشغول رہتا ہوں ۔میں نے اس سے کہا:اے بھائی! تو حسن بصری سے اَفقَہ یعنی زیادہ فَقِیہ(بَہُت بڑا عالم)ہے، اکیلا ہی بیٹھا کر۔
 (تَنبِیہُ الْمُغتَرِّیْن ص۲۲۷)
تنہائی میں بھلائی ہی بھلائی ہے
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دیکھا آپ نے!واقِعی تنہائی میں بھلائی ہی بھلائی ہے مگر جو ایسا عالم ہو جس کی مسلمانوں کو حاجت ہو اور اُس سے لوگوں کو نفع پہنچتا ہووہ مَیل جول ترک کر کے خَلوت (یعنی گوشہ نشینی )اختیار نہ کرے۔ باقی لوگ اگر ماں باپ، اہل وعیال اور دیگر حُقُوق العباد کا خیال رکھنے کے ساتھ ساتھ اپنی اہم دینی و دُنیوی ضَرورتوں سے فارِغ ہو کربَقِیَّہ وَقت عُزلَت نشینی (یعنی تنہائی)میں گزاریں (جبکہ تنہائی میں رہنے کے آداب سے بھی واقِف ہوں۱؎)تو ان کیلئے نورٌ علیٰ نور۔حضرتِ سیِّدُنا عُقبہ بن عامِر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی: یا رسولَ اللہ عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم!نَجات کیا ہے؟ فرمایا:(1)اپنی زَبان کو روک رکھو (یعنی اپنی زَبان وہاں کھولو جہاں فائدہ ہو،نقصان نہ ہو )اور (2)تمہارا گھر تمہیں کِفایت کرے (یعنی بِلا ضَرورت گھر سے نہ نکلو) اور (3) گناہوں پر رونا اختیار کرو۔
(سُنَنِ تِرمِذی ج ۴ ص ۱۸۲ حدیث ۲۴۱۴ )
دل میں ہو یاد  تری گوشہ  تنہائی ہو

پھر تو خَلوت میں عجب انجمن آرائی ہو
غیبت سے بچنے کا انوکھا طریقہ
جب بھی کسی کے بارے میں کچھ کہنے کی نوبت آئے توکاش!ہمارا تصوُّریہ بندھ جائے کہ وہ ہمارے سامنے موجود ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ کوئی لفظ ایسا زَبان سے ادا ہو جائے جسے سُن کر یہ ناراض ہو جائے چُنانچِہ حضرتِ سیِّدُنا ابو طالِب مکّی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں:کسی بُزُرگ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا فرمان ہے کہ جب بھی کسی آدمی کا میرے سامنے ذکر کیا گیا تو میں نے گویا اسے اپنے
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

لُبابُ الْاِحیاء صفحہ 163 تا 165 پر گوشہ نشینی كا بیان مُلاحَظہ فرمائیے۔ اس كا جواب تفصیلی بیان اِحیاءُالْعُلوم جلدد2میں ہے۔
Flag Counter